مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبی ﷺ اسلامی تاریخ، سیرت نگاری اور دینی شعور کی اہم ترین روایات میں سے ہے۔ یہ وہ عظیم الشان موضوع ہے جس پر صدیوں سے عرب و عجم کے علماء نے اپنی محنتیں صرف کیں اور مختلف النوع کتب تصنیف کیں۔ عربی زبان میں مولد النبی ﷺ کے موضوع پر لکھی گئی کتب اپنی اصل ماخذی حیثیت، تاریخی گہرائی اور علمی جامعیت کے سبب غیر معمولی مقام رکھتی ہیں۔ یہ کتب نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے حالات و واقعات کو بیان کرتی ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی دینی، تہذیبی اور فکری تاریخ کا آئینہ بھی پیش کرتی ہیں۔علمی دنیا میں ببلوگرافی (Bibliography) اور جامع فہرستیں اس بات کو ممکن بناتی ہیں کہ محققین اور قارئین کسی موضوع پر لکھی جانے والی قدیم و جدید کتب تک منظم اور آسان رسائی حاصل کر سکیں۔ چنانچہ مولد النبی ﷺ پر عربی کتب کی یہ ببلوگرافی اور فہرست دراصل ایک ایسا علمی رہنما ہے جو اس موضوع کے سنجیدہ طالب علموں، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ اس میں وہ تمام بنیادی اور ثانوی ماخذ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو صدیوں کے علمی سرمایے کا حصہ ہیں۔یہ فہرست محض ایک حوالہ جاتی کام نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز بھی ہے، جو سیرت النبی ﷺ کے اس پہلو پر اسلامی تہذیب کی فکری اور روحانی جستجو کی جھلک دکھاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ کوشش محققین کے لیے تحقیق و مطالعہ کی نئی راہیں کھولے گی اور قارئین کو مولد النبی ﷺ کی روایت سے قریب تر لے جائے گی۔
قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

امام بوصیریؒ (608ھ/1212ء – 695ھ/1296ء) کا پورا نام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری ہے۔ آپ مصر کے قصبے "بوصیر" میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے بوصیری کہلائے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور بعد میں مصر کے علمی مراکز سے فیض اٹھایا۔ آپ فصیح و بلیغ شاعر، نعت گو، صوفی اور شافعی فقیہ تھے۔ عربی زبان و ادب پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی جس کی بنا پر آپ کے کلام کو ادب اور روحانیت دونوں میدانوں میں خاص مقام حاصل ہوا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کو زندہ جاوید انداز میں پیش کیا اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا۔ان کی سب سے مشہور تصنیف قصیدہ بردہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی مدح میں لکھی گئی شہرۂ آفاق نعتیہ نظم ہے۔ یہ قصیدہ برصغیر، مصر، افریقہ اور عالمِ اسلام میں یکساں مقبول ہوا اور صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور مساجد میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ روایات کے مطابق امام بوصیری شدید بیماری میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ قصیدہ لکھا اور خواب میں نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک چادر ان پر ڈال دی، جس کے بعد ان کی صحت بحال ہوگئی۔ اسی وجہ سے اس کا نام "القصیدہ البردہ" رکھا گیا
بر صغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدمات سیرت۔ سیرت کانفرنس

بر صغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدمات سیرت۔ سیرت کانفرنس

سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلام کے حقیقی فہم کی بنیاد ہے ،جو امت مسلمہ کی فکری اور عملی اصلاح میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔برصغیر پاک و ہند میں سیرت طیبہ کی بنیادوں پر اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔صوفیا نے اس خطے میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریری اور عملی ترویج کے ذریعے روحانی وہ اخلاقی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔برصغیر میں صوفیانہ ادب میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھاپ بہت گہری ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخلاقی اصلاح کے میدان میں اور غیر مسلموں کے قبول اسلام کے سلسلہ میں صوفیاء کی خدمات کو بے پناہ پذیر ائی حاصل ہوئی ہے۔اسی تناظر میں شعبہ سیرت سٹڈیز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا موضوع"بر صغیر پاک و ہند میں صوفیا کی خدمات سیرت"ہے. اس موضوع سے متعلق سیرت النبی ﷺکے اہم محاور پر علمی گفتگو اور تحقیقات پیش کی جائیں گی۔ ماہرین اور محققین سیرت کو مقالات لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے، تاکہ اس علمی ورثے کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج اور اسلامی تعلیمات کی فہم و اشاعت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور امت مسلمہ کی فکری و عملی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔
 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

تاریخ سیرت کے مطالعہ میں ان محرکات و عوامل کا مطالعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، جن کی وجہ سے سیرت نگاری کے مختلف رحجانات جنم لیتے ہیں یا کسی خاص دور میں مقبولیت حاصل کر کے اس فن کی روایت کو کوئی خاص سمت عطا کرتے ہیں۔برصغیر میں سیرت نگاری کی تاریخ کی بہتر تفہیم کے لیے یہ ضروری اور مفید معلوم ہوتا ہے کہ خاص دور جدید کے تناظر میں دیکھا جائے کہ مختلف جدید رحجانات کے اسباب و محرکات کیا ہیں۔ یہ مطالعہ اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں پچھلی دو صدیوں میں سیرت طیبہ کا وقیع ادب وجود میں آیا جو کیفیت و کمیت میں اس عرصہ میں عربی سمیت تمام زبانوں کے ادب سیرت پر فائق ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی جیسی معیاری اور تحقیقی کتاب عربی میں نہیں لکھی گئی۔ اسی عرصہ کے دوران سیرت نگاری کے بعض نئے رجحانات سامنے آئے، جن میں سے بعض رجحانات مختلف عوامل کی وجہ سے سامنے آئے۔ اس مقالہ میں بر صغیر کے لحاظ سے خصوصی اسباب و عوامل کا تجزیاتی مطالعہ کیا جانا مقصود ہے۔ سیرت نگاری یا دیگر علوم میں کوئی بھی رجحان عموما جن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہےان میں مواد کا انتخاب، مواد کے مآخذ، مواد کی پیشکش کا منہج و اسلوب ، شخصی و قومی اعتقادات و تصورات کی تصویر گری اورعلم کے ابلاغ میں زمانے کی مخصوص تکنیکی سہولیات سے استفادہ کے طریقوں کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ذیل میں برصغیر کی اردو سیرت نگاری کے تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیرت نگاری کے متنوع جدید رجحانات کن اسباب و عوامل کے تابع جنم لے کر مقبول ہوئے ۔