معراج النبیﷺ پر اُردو سیرت نگاروں کے نقطہ نظر کا جائزہ

یہ مقالہ پاکستان جرنل آف اسلامک ریسرچ، جلد ۲۵، شمارہ ۲ میں شائع ہوا جسےعاصمہ عزیز، ثمن نواز اور حافظہ ثمن نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔

خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے معجزات کی اہمیت و معنویت کے پیشِ نظر صدیوں کے دوران مختلف زبانوں، بالخصوص اردو میں، کثیر مقدار میں تصنیف و تالیف اور تراجم کا کام انجام دیا گیا ہے۔ معجزاتِ نبوی ﷺ سے متعلق موضوعات کی وسعت اور تنوع نے تحقیق کے متعدد زاویے فراہم کیے ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف اس میدان میں نئے فکری مباحث کو فروغ ملا بلکہ ایسے گوشے بھی نمایاں ہوئے جو پہلے کم توجہ کا مرکز تھے۔ اس تنوع نے علمی تحقیق میں نئے رجحانات متعارف کرانے اور فہمِ نبوت کے مختلف پہلووں کو از سرِ نو مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

عصرِ جدید کی سیرت نگاری پر بعد از نوآبادیاتی مسلم دنیا کے فکری و تاریخی رجحانات کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ خصوصاً انیسویں صدی میں اسلامی دنیا کو مغربی سائنسی فکر، تصورِ وحی اور عقل و نقل کے باہمی تعلق جیسے مباحث کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں نبوت اور ذاتِ رسالت مآب ﷺ کے مابعد الطبیعی اور روحانی پہلو جدید مباحثِ نبوت کا اہم جزو بن گئے۔ جدید اردو سیرت نگاروں کے اسالیبِ تحریر ایک ایسے فکری ماحول کی عکاسی کرتے ہیں جس میں نبوت کے تصور کو عقلی اور استدلالی انداز میں پیش کرنے کی کوشش نمایاں ہے۔

زیرِ نظر مقالہ اردو لٹریچر میں واقعۂ معراجِ نبوی ﷺ کے مابعد الطبیعی پہلو پر بحث کرنے والے مصنفین کے مناہج اور اسالیب کا جائزہ لیتا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد ان کتب کا تعارفی و تنقیدی مطالعہ پیش کرنا بھی ہے، جس میں کتابوں کے عناوین، مصنفین کے نام، سنِ اشاعت، ناشرین، اجمالی خلاصہ اور علمی قدر و قیمت کا تجزیہ شامل ہے۔

مکمل مقالہ پڑھے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

معراج النبیﷺ پر اُردو سیرت نگاروں کے نقطہ نظر کا جائزہ

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے