یہ مقالہ المیزان، جلد ۳، شمارہ ۲ (دسمبر ۲۰۰۱) میں شائع ہوا جسے جناب طارق عزیز اور ڈاکٹر محمد شہباز نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے۔
واقعۂ معراج نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں پیش آنے والے عظیم معجزات میں سے ایک ہے۔ اس معجزے کی تفصیلات متعدد واقعات پر مشتمل ہیں، جن کا ذکر احادیث میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ قرآنِ مجید میں اس واقعے کی طرف اشارہ سورۃ الإسراء میں کیا گیا ہے، جبکہ سورۃ النجم اور سورۃ التکویر کی بعض آیات بھی اس واقعے کی توضیح و تائید کرتی ہیں۔
مستشرقین کی اکثریت کی طرح ولیم مونٹگمری واٹ اور رابرٹ اسپینسر نے بھی نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں پیش آنے والے اس معجزے کا انکار کیا ہے اور ساتھ ہی اسلام میں بیت المقدس کی دینی و تاریخی اہمیت کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں مغربی محققین کے ان دلائل کا تنقیدی جائزہ لینے اور اس عظیم معجزے کی حقیقی حیثیت کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یہ تحقیق توصیفی اور تجزیاتی منہج پر مبنی ہے، جس میں قرآنِ مجید، علومِ تفسیر، حدیث، تاریخ اور عقلی استدلال کی روشنی میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ مذکورہ مغربی مفکرین کے تصورات علمی بنیادوں پر مبنی نہیں ہیں۔ مزید برآں، امتِ مسلمہ کے جلیل القدر علماء اور مسلم مفکرین کی اکثریت کے پیش کردہ مضبوط دلائل کے ذریعے ان آراء کا انکار کیا گیا ہے۔
مکمل مقالہ پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
معراج النبی ﷺاور مستشرقین: منٹگمری واٹ اور رابرٹ سپینسر کے افکار کا مطالعہ
