یہ مقالہ المیزان، جلد ۴، شمارہ ۱ (جنوری تا مارچ) میں شائع ہو جسے ڈاکٹر مظفر علی نے تحریر کیا ہے۔
اسلامی دور کی ابتدائی عسکری مہمات جزیرۂ عرب میں اسلام کے پھیلاؤ اور مسلم اقتدار کے استحکام میں بنیادی کردار کی حامل رہی ہیں۔ یہ مہمات رسول اللہ ﷺ اور آپ کے برگزیدہ صحابہؓ کی قیادت میں برپا ہوئیں، جن میں دفاعی اور اقدامی دونوں نوعیت کی کارروائیاں شامل تھیں۔ زیرِ نظر تحقیقی مقالہ غزوات اور سرایا کے تناظر میں عہدِ نبوی ﷺ کی عسکری تنظیم و ترتیب کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس مقالے میں مسلم لشکر کی حربی حکمتِ عملی، تدابیر اور عسکری نظم و ضبط کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں سپہ سالاروں اور عام مجاہدین کے کردار کو نمایاں طور پر زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مزید برآں، اس دور کے سماجی و سیاسی پس منظر کا تحقیقی مطالعہ بھی شامل ہے، جس میں قبائلی اتحاد کی اہمیت، بین القبائل تعلقات اور عرب معاشرے پر ظہورِ اسلام کے اثرات کو تفصیل کے ساتھ واضح کیا گیا ہے۔ مقالے کی بنیاد ابتدائی تاریخی تذکروں، مذہبی متون اور معتبر علمی مصادر و مراجع پر رکھی گئی ہے، جو اسلامی دور کی عسکری ساخت اور تنظیم کی جامع تفہیم فراہم کرتے ہیں۔ تحقیقی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی ﷺ کی عسکری تنظیم اپنے نظم و ضبط، موثریت اور حکمتِ عملی کے اعلیٰ معیار کی بنا پر نمایاں تھی، جس نے مختلف مہمات میں مسلم فوج کی کامیابی میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
مکمل مقالہ پڑھے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
فلاحی ریاست کے استحکام میں دفاعی افواج کا کردارعہد رسول ﷺ کے غزوات اور سرایا کے تناظر میں فوجی تنظیم
