اردو نعت کا ہیئتی مطالعہ

تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی  ۔ (Th-0002)

نگران مقالہ ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری ، پروفیسر شعبہ ادبیات اردو، پنجاب یونیورسٹی اورئنٹل کالج  ، لاہور

مقالہ نگار افضال احمد انور، ایسوسی ایٹ پروفیسر ، شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی ، فیصل آباد

تعارف

یہ پی ایچ ڈی اردو کا ایک مقالہ ہے ، جو ڈاکٹر افضال احمد انور ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد نے لکھا اور نگرانِ مقالہ ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری پروفیسر شعبہ ادمی اردو پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور ہیں ۔ اس مقالہ پر 2007 کی تاریخ درج ہے ۔  مقالہ ۶۱۲ صفحات کی پی ڈی ایف فائل کی صورت میں دستیاب ہے۔

مباحث مقالہ

باب اول (تمہیدی مباحث)

اس مقالہ کے باب اول میں تمہیدی مباحث پیش کیے گئے ہیں جن میں نعت کے مختلف پہلو اور اسالیب  ، نعت کا اصطلاحی لغوی معنی ۔  مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ لفظ نعت کے جملہ احسن لغوی معنی کا اطلاق صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر ہوتا ہے۔  نعت کے متعلق بعض اہم توضیحات :

  • لفظ نعت کا اطلاق اللہ کی حمد کے معنی میں نہیں ہو سکتا ۔
  • دینی ادبی اصطلاح کے باعث نعت کا اطلاق رسول اکرم ﷺ کے سوا کسی کے لیے درست نہیں ۔
  • نعت کی ادبی اصطلاح کا اطلاق صرف اس کلام منظوم پر ہوگا ،جس کا مجموعی تاثر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی طرف اشارہ کرے ۔
  • لفظ نعت اصل یا اشتقاقی حالت میں قران مجید میں استعمال نہیں ہوا ۔
  • حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں صفت و شان کے معنی میں لفظ نعت کا اولین استعمال ۔
  • رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ سے قبل بھی اس لفظ کا استعمال مدح و ثنائے رسول ﷺ کے معنی میں

ماخذ نعت ، موضوعات نعت ،نعت اور تخلیق نعت ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازلی وابدی محبوبیت ،نعت لازمہ حیات اور اظہار تحسین و تعظیم کا ذریعہ۔۔۔۔۔نعت کے مختلف پہلو (دینی ،اخلاقی ،سماجی ،و اصلاحی، نفسیاتی، ادبی )نعتیہ تخلیق ،تالیف ،تنقید اور تحقیق ۔

نعت کی اقسام پر ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق، پروفیسر بشیر احمد قادری، حافظ محمد منیر، ڈاکٹر ریاض مجید، راجہ رشید محمود اور مقالہ نگار کی آراء

نعت کے انداز اور اسالیب ،اردو نعت کے مختلف ادوار ، تعیّن ادوار کی ضرورت اور اس کے فوائد ،

اولین اردو نعت گو نظامی دکنی یا ملا داؤد نہیں خواجہ محمد حسینی بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ ہیں

نعت پر تنقید  جیسے موضوعات باب اول کا حصہ ہیں۔

باب دوم ( ہیئت  کا مفہوم ، شاعری کی موضوعاتی اور ہیئتی اقسام )

اس باب میں اردو شاعری کی مختلف ہیئتوں پر گفتگو کی گئی ہے ، جس میں میکانکی ہیئت اور نامیاتی ہیئت، نعت بطور صنف سخن  پر کلام کیا گیا ہے  ۔ اس میں اردو کی شعری ہیئتوں  کے متعلق اہم کام عربی ،فارسی نعتیہ شاعری کی مقبول ہیئتیں ۔ اردو نعتیہ شاعری کی مقبول ترین ہیئت۔  اور اردو نعتیہ شاعری کے ہیئتی مطالعہ کی ضرورت و اہمیت بیان کی گئی ہے ۔

باب سوم ( مثنوی ،ہیئت اور عہد با عہد اردو لغت )

اس  باب میں مثنوی کے عروج اور بحروں کا تعین ،اس کی اہم خصوصیات، مثنوی میں نعتیہ عناصر، بر صغیر میں اسلامی علمداری کا اجمالی جائزہ ،جنوبی ہند میں اردو مثنوی اور دکن میں لکھی گئی پہلی اردو مثنوی کا تعارف اور نمونہ نعت اور وہ مثنویات جن کا موضوع براہ راست نعت نہیں، لیکن ان کےآغازمیں نعتیہ اشعار ہیں۔  مثلا نور نامہ ،میلاد نامہ ،معراج نامہ، معجزہ نامہ، شمائل نامہ ،وفات نامہ ۔ پھر جنوبی ہند میں مثنوی نگاری کا مجموعی جائزہ۔  شمالی ہند کا دور اور تیسرا دور 1857 تا 1947 ۔ پھر اس کا چوتھا دور قیام پاکستان کے بعد  ۔ مثنوی کی ہیئت  میں درود و سلام  ۔ نعتیہ مثنوی میں تخصص کی مثالیں وغیرہ جیسے موضوعات سے  اعتناءکیا گیا ہے ۔

باب چہارم( قصیدہ اور غزل )

یہ باب قصیدہ اور غزل سے متعلق ہے ،جس میں قصیدہ کی صنفی اور ہیئتی شناخت اور اجزائے قصیدہ (تشبیب، گریز ، مدح  و ذم،  حسن طلب اور دعا)،  قصیدے کی اقسام،اور نعتیہ قصیدہ عہد بہ عہد ۔ دکنی دور ۔ نعتیہ قصیدہ شمالی ہند میں ۔ نعتیہ قصیدہ تیسرے دور میں، چوتھا دور قیام پاکستان کے بعد  ۔ قصیدے کی ہیئت میں تجربے ۔  اصطلاحا یہ قصیدہ نہیں   ۔  اس کے بعد   غزل کی صنفی اور ہیئتی شناخت اور اس کی تعریف ،غزل کی مقبولیت اور اردو نعتیہ غزل کے پہلا دوسرا تیسرا اور چوتھا دور ۔ پہلا دور پہلا دور دکنی دور ہے ۔ دوسرا دور شمالی ہند کا عہد ہے جو 1707 سے لے کے 1857 تک  ۔ تیسرا دور 1857 سے 1947 تک  ۔ چوتھا دور 1947 کے بعد ہے ۔

اردو میں سب سے زیادہ نعتیں کہنے کا شرف راجہ رشید محمود  کو حاصل ہے ۔ خواتین کی نعت گوئی ۔ غیر مسلم شعراء کی نعت گوئی  ۔ غزل کی ہیئت  میں ایک شاعر ایک نعت ۔ نعتیہ غزل میں تخصص کی صورتیں۔ غیر منقوط نعت گوئی، حرف الف کے بغیر لکھی گئی نعتیں  ۔  وغیرہ جیسے موضوعات اس باب میں شامل کیے گئے ہیں ۔

باب پنجم  ( نعتیہ مسمط،  ترکیب بند اور ترجیح بند )

مسمط کی تعریف اور مختلف صورتیں، اس کی اقسام، مربع ہیئت میں تجربات، مخمس اور تضمین ۔جان محمد قدسی کی نعت پر تضامین ،

دنیا نعت میں مخمسات کا پہلا مجموعہ، مخمسات نعت اور اس میں ہیئتی تجربات ۔ مسدس اور نعتیہ مسدس کا جائزہ  ۔مسدس میں ہیئتی  تجربہ،  مسبع اور نعتیہ مسبع، مثمن اور  اس میں ہیئتی تجربہ۔ اردو نعت کا ہیئت ی مطالعہ  ۔ متسع ۔ تضمین نگاری ۔ معشر  اور اس میں ہیئتی تجربہ۔۔۔۔ترکیب بند ، ترجیح بند  وغیرہ سے کلام کیا گیا ہے۔

باب ششم (رباعی اور قطعہ )

 رباعی کی تعریف اور لوازم، اس کے اوزان ، اردو نعتیہ رباعیات کا مطالعہ، قطعہ کی تعریف اس کے لوازم اور نعتیہ قطعات کا مطالعہ اس باب میں کیا گیا ہے

باب ہفتم (دیگر شعری ہیئتیں)

 اس باب میں دیگر شعری ہیئتیں زیر بحث آئی ہیں، جس میں دوہا ،گیت ،ٹھمری، کینٹو ،ہائیکو ،ماہیا ،وائی ترانہ اسانٹ، نعتیہ پابند نظم ،مستزاد نظم، آزاد نظم ، معریٰ اور نثری نظم ۔ پھر اردو نعت کا ہیئتی  مطالعہ ثلاثی،  سی حرفی، جکری ، بارہ ماسا، واکا، تروینی، لوری،  کہہ مکرنی، یک مصرعی نعت ،سہ مصرعی نعت تین سطری نعت، اور اس طرح کی مختلف ہیئتوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

انتساب

مقالہ نگار نے مقالہ کا انتساب  سید الکونین ﷺ کی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ بنت وھب  رضی اللہ  تعالیٰ عنہا سے کیا ہے۔ 

پیش لفظ

مقالہ نگار نے  پیش لفظ میں موضوع سے متعلق وقیع خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ ذیل میں ان کے پیش لفظ   کو پیش کیا جاتا ہے۔   وہ لکھتے ہیں:

  اردو نعت کے موضوع پر متعدد محققین پی ایچ ڈی کی سطح کے مقالات تحریر کر چکے ہیں۔ اردو میں نعتیہ شاعری کے موضوع پر ڈاکٹر سید رفیع الدین اشفاق نے 1955 میں ناگپور یونیورسٹی انڈیا سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر ریاض مجید دوسرے محقق ہیں جنہوں نے اردو نعت پر ایسی ہی ڈگری حاصل کی، بعد میں مظفر عالم جاوید ، عاصی کرنالی اور محمد اسماعیل آزاد کے علاوہ بھی پاک و ہند کے کچھ زعما نے اردو نعت پر داد تحقیق دی۔ اتنے تحقیقی مقالات کے بعد اردو نعت کے موضوع پر ایک اور مقالے کی گنجائش بظاہر سوالیہ نشان ہے ، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ پہلو سامنے آئے گا کہ رفیع الدین اشفاق اور ریاض مجید کا موضوع اردو نعت گوئی تھا۔ شعرائے نعت کے موضوعات و اسالیب اور ان کی ادبی خدمات ان کی تحقیق کا تخصص تھا۔ ضمنا ممنوعات و مرغوبات  نعت کا ذکر بھی ان کے ہاں ملتا ہے۔ اردو نعتوں کے ہیئت ی مطالعہ کا عہد با عہد جائزہ ان کے موضوع نہ تھا اور نہ ان سے اس کام کی توقع مناسب لگتی ہے۔ ڈاکٹر مظفر عالم جاوید کا دائرہ تحقیق میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے تخصیصا مولود نامہ تک محدود ہے۔ یہ نعت کے مضامین میں سے ایک اہم وقیع اور شاندار موضوع ہے ۔لیکن اس کا دائرہ اصل بھی ہیئتوں کے تفصیلی مطالعہ تک نہیں جاتا۔ ڈاکٹر آصف کرنالی کی تحقیق کا موضوع اردو حمد و نعت پر فارسی کی شعری روایت کے اثرات کی دریافت تھا، لیکن ہر ہیئت کا عہد با عہد جائزہ ان کا بھی موضوع تحقیق نہیں تھا، نیز نعت کے علاوہ چونکہ حمد بھی ان کے دائرہ تحقیق میں شامل تھی، لہذا ان کے موضوع کی الگ شناخت ظاہر ہے۔ ڈاکٹر محمد اسماعیل آزاد کا مقالہ اردو شاعری میں نعت بھی شعرائے نعت کے عمومی جائزے پر مشتمل ہے۔ ایک ایک شعر ی ہیئت کے تحت نعت گوئی کا دور بطور جائزہ ان کے موضوع تحقیق بھی نہیں تھا۔ گویا نعت کے حوالے سے جملہ تحقیق کا عمومی منہاج نعت کے موضوعات و اسالیب تک جاتا ہے۔ یہ بلا شبہ یہ بہت ضروری پہلو تھا جس پر ضروری کام ہو چکا ،لیکن ان میں کوئی مقالہ نعت کے ہیئتی تنوع اور اس کے عہد بہ عہد جائزے کے حوالے سے نہیں لکھا گیا۔ مذکورہ بالا مقالوں میں کہیں بھی ہر ہیئت میں لکھی گئی نعتوں کا ذکر یکجا نہیں۔ ہر ہیئت کی تعریف اور اس کے لوازم کا خصوصی ذکر بھی نہیں ملتا۔ایسا بھی نہیں ہو سکا کہ ہر ہیئت میں کیے گئے ہیئتی تجربات پر بھی تخصیصی نظر ڈالی گئی ہو۔ اس سیاق و سباق میں اردو نعت کے ہیئتی مطالعہ کی ضرورت و اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو نعت کے ایک سنجیدہ اور معتبر نقاد ڈاکٹر فرمان فتح پوری کو نعت رنگ کے چوتھے شمارے مئی 1997 میں لکھنا پڑا ۔”نعت کا موضوع اس امر کا متقاضی تھا کہ اسے جدید ہیئتوں  میں زیادہ سے زیادہ برتاجاتا لیکن ایسا نہیں ہوا اس لیے اردو نعت کو شعر کی نئی نئی ہیئتوں اور فکر و فن کے نئے نئے سانچوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے (صفحہ نمبر 164)۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی اس بروقت تشویش و تشویق نے تحقیقی سطح پر بھی نئی نئی ہیئتوں  میں نعت کے جائزےکی اہمیت کو واضح کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ایک اور حوالے سے بھی اس موضوع کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے وہ یہ کہ ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق اور ڈاکٹر ریاض مجید کے مقالوں کے مابین انداز 20 برس کا عرصہ حائل ہے۔ اب ڈاکٹر ریاض مجید کے مقالے کی عمر بھی 20 برس سے زیادہ ہو چکی ہے اس دوران میں اردو نعت کے بہت وقیع اور شاندار مجموعے شائع ہوئے۔  خصوصی طور پر نئی نئی ہیئتوں میں نعت کہنے کا رجحان سامنےآیا۔  اردو نعت مثنوی،  قصیدے،  غزل جیسی اصناف اور مسمط ، رباعی، مستزاد جیسی ہیئتوں سے بہت آگے بڑھ کر نو بہ نو اصناف سخن اور رنگا رنگ شعری ہیئتوں میں کہی جانے لگی۔ مختصر نعتیہ نظموں کا دائرہ  دوہا،  رباعی  اورقطع سے بہت آگے تک پھیل گیا ۔چنانچہ جہاں دیسی اور علاقائی انواع شعر جیسے سی حرفی، بارہ ماہ ، ماہیا وغیرہ میں نعت گوئی کی رفتار تیز ہوئی وہاں بدیسی اقسام سخن جیسے سانیٹ ہائی کو بلینک ورس وغیرہ میں نعت کہنے کا رواج عام ہوتا گیا۔ ایک ایک صنف مثلا دوہا ، سانیٹ، ہائی کو  اور ماہیا وغیرہ پر مشتمل نعتیہ مجموعے شائع ہونے لگے۔لہذا  اس امر کی ضرورت بڑھ گئی کہ ایک ایک ہیئت شعر کا عہد با عہد جائزہ لیتے ہوئے نعتیہ سرمائے کی دریافت کی جائے۔ جدید ہیئتوں پر مشتمل نعتوں کے نمونے بطور خاص دیے جائیں، تاکہ نعت کی ہر لمحہ پھیلتی سرحدوں اور نئی نئی شکلوں کا اندازہ کیا جا سکے۔ نعتیہ ادب کے ایسے جائزے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے متعلقہ ہیئت  کے ضروری  کوائف دیے جائیں، اس کی حقیقی حدود کا تعین کر کے اس کی شناخت کا معیار سامنے لایا جائے اور پھر شعرائے نعت کے ہاں اس ہیئت میں لکھی گئی نعتوں کا جائزہ لیا جائے اور مناسب شعری مثالیں درج کی جائیں۔

اس خاص حوالے سے تحقیق کے دائرہ کار میں شعری اصناف اور مختلف ہیئتوں کی تعریف و لوازم کا جائزہ بھی شامل ہے۔یوں یہ کام بہت پھیلا ہوا ہے آج تک جو بھی نعت لکھی گئی وہ کسی نہ کسی شعری ہیئت میں ہی لکھی گئی ہے۔  یہاں تک کہ آزاد نظم اور نثری نظم بھی کسی نہ کسی ہیئت لباس میں ہی جلوہ گر ہوئی۔ لہذا شروع سے لے کر آخر تک تمام نعت اس کے دائرہ کار میں آجاتی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اگر کلیات و دواوین مجموعہ ہائے نعت اور مختلف رسائل و جرائد نیز اخبارات میں شائع ہونے والی نعتوں کے سرسری کوائف اور اشاعتی معلومات ہی لکھ دی جائیں تو بھی سینکڑوں صفحات درکار ہوں گے۔ ان پر بحث اور شعری نمونوں کا اندراج تو دور کی بات ہے۔  لہذا اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ اہم اور رجحان ساز شعرا  کا ذکر کیا جائے۔ اس مقالے کی تحدید سن 2000 عیسوی تک ہے،  تاہم اس کے بعد کے دور کی کوئی انتہائی اہم تصنیف یا کوئی خاص متعلقہ بات سامنے آئی تو اس کا حوالہ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

مقالہ سات ابواب پر مشتمل ہے۔  

پہلے باب میں

نعت ،لفظ نعت کی مختلف شکلوں سے دریافت ہونے والے 25  معانی  کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان لغوی معانی کے پیش نظر اگر کسی ہستی کا تصور کیا جائے ،جو ان معنی کے مصداق ہو سکتی ہے ،تو وہ صرف اور صرف نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لفظ نعت اپنے اصطلاحی معنی کے علاوہ لغوی معنی کے اعتبار سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص ہے۔ اس لحاظ سے نشاندہی کی گئی ہے کہ نعت کا لفظ اللہ تعالیٰ  کی حمد کے لیے بھی مستعمل نہیں اورکسی اور کے لیے تو دور کی بات ہے ۔ اگر ماضی یا حال میں کسی نے نعت کا لفظ وصف مطلق کے معنی میں کسی اور کے لیے استعمال کیا بھی ہے،  تو اسے اہل ادب نے تسلیم نہیں کیا۔  یوں نعت اب لغت کا عام لفظ نہیں،  بلکہ کامل اور مخصوص دینی و ادبی اصطلاح ہے ، جس کا سیدھا سا مفہوم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت محمود ہے۔

مختلف محققین کی کاوشوں سے دریافت ہونے والی اردو کی اولین نعت سے لے کر موجودہ دور تک کے نعت سرمائے کو دیکھا جائے تو نعت کے چند موضوعات بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ مثلا یہ کہ اللہ کریم نے سب سے پہلے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک پیدا کیا اور کون و مکاں کی ہر شے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیدا کی،  اگر آپ کا پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو کائنات کی کوئی چیز پیدا نہ کی جاتی نیز یہ کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حبیب اللہ ہیں۔ ان تمام حقائق کے ثبوت میں قران حکیم اور احادیث مقدسہ کے حوالے دیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں نعت کے دینی اخلاقی سماجی و اصلاحی نفسیاتی و ادبی اور تنقیدی و تحقیقی پہلوؤں کا اجمالی ذکر کیا گیا ہے۔ نعت کی مختلف اقسام اور اسالیب کے علاوہ نعت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ اردو میں اولین نعت گوئی کا شرف حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کو حاصل ہے۔ آخر میں واضح کیا گیا ہے کہ نعت پر تنقید ضرور ہونی چاہیے تاکہ غلط انداز راہ نہ پا جائے۔  اس کے ساتھ ساتھ ناقد نعت کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں کہ اسے شعر و ادب کے علاوہ ضروری دینی علوم کا بھی حامل ہونا چاہیے۔ اسے فرقہ بندی سے بالاتر ہو کر نعت کی تحسین کرنی چاہیے اور اگر نعت میں کوئی غلط ترکیب یا خیال ہے، تو اصلاح میں ہمدردانہ انداز سے کوشش کرنی چاہیے۔ البتہ اگر نعت کا مضمون شان الوہیئت  کا حامل ہو یا اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کا کوئی ہلکا سا شائبہ بھی نکلتا ہو، تو کسی رو  رعایت کے بغیر شد و مد کے ساتھ اس کی تغلیط کی جائے، کیونکہ ناموس رسالت کی حفاظت ایمان کا اساسی تقاضا ہے ۔

مقالے کا دوسرا باب

 لفظ ہیئت کے لغوی اور اصطلاحی مفہوم اور شاعری کی موضوعاتی  و ہیئتی اقسام پر مشتمل ہے۔ ہیئت  اگرچہ شعر کی ظاہری شکل و صورت ہے، تاہم اس خارجی ہیئت کے علاوہ ایک داخلی ہیئت بھی ہوتی ہے ۔ جیسا کہ رباعی کی ظاہری ہیئت اس نظم پارے کا چار مصروں پر مشتمل ہونا اور داخلی ہیئت ان مصروں کا رباعی کے اوزان خاص میں ہونا ہے۔ شاعری میں موضوع مضمون اور معنی کے ساتھ ہیئت کی اہمیت بھی واضح کی گئی ہے۔ شاعر جن وجوہ کی بنا پر کسی خاص ہیئت کو شعر کے لیے استعمال میں لاتا ہے،  ان کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں ارضی وجوہ، عہد مخصوص کے حالات، ما قبل شعراء کے اثرات اور شاعر کے وفور جذبات و طبعی  میلان کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس حقیقت  کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ نعت محض مذہبی اسٹیج ہی کی چیز نہیں ، اسے موضوعاتی شاعری کی شاخ قرار دے کر اس سے صرف نظر ممکن نہیں۔  بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نعت ایک باقاعدہ صنف سخن ہے، جو لوگ صنف اور ہیئت کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں،  ان کے لیے دونوں اصطلاحوں کے فرق کو واضح کر کے ثابت کیا گیا ہے کہ نعت اس لیے صنف سخن ہے کہ کسی صنف کا تعین ظاہری ہیئت کے علاوہ اس کے موضوع سے حوالے سے بھی ہو سکتا ہے۔ اردو شاعری کی اقسام کے تعین میں موضوع، ہیئت اور ان دونوں کے اشتراک کو بنیاد بنایا گیا ہے۔شعر کی ظاہری شکل و صورت یا ہیئت  کی تشکیل میں بحر ،مصروں کی جسامت اور تعداد کے پیش نظر چار انواع صنف (۱)موضوعاتی اصناف  (۲) ہیئتی اصناف  (۳)موضوعاتی ہیئتی اصناف  اور اختیاری اصناف کا ذکر کیا گیا ہے۔ آخر میں اہم شعری ہیئتوں مثلا مثنوی ،غزل ،قصیدہ ،رباعی، مسمط(آٹھ اقسام) ترکیب بند، ترجیح بند، مستزاد،  فرد،  ثلاثی ، آزاد نظم ، معریٰ نظم، نثری نظم وغیرہ کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔ پھر شعری ہیئتوں میں نو بہ نو تجربات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔  اردو نعت کے سنجیدہ مطالعہ کے ضمن میں ماہ نامہ نعت لاہور،  مجلہ نعت رنگ کراچی،  مجلہ اوج کے نعت نمبروں،  مجلہ  شام سحر کے نعت نمبروں ،نقوش کے رسول نمبر خصوصا جلد نمبر 10 اور راجہ رشید محمود کی مرتبہ کتاب نعت کائنات کی خدمات کا ذکر کیا گیا ہے۔

تیسرے باب میں

مثنوی کی ہیئت  اور نعتیہ مثنوی کا عہد با عہد جائزہ لیا گیا ہے۔ مثنوی کی وسیع دامانی اسے قصیدے اور غزل سے منفرد مقام دلاتی ہے۔ اس میں دیگر اصناف سخن کا رس پایا جاتا ہے ۔ لہذا طویل بیان ،دلی جذبات کے اظہار ،کردار نگاری ،منظر کشی کے لیے مثنوی کی موضوعیت واضح کی گئی ہے۔ مثنوی سے متعلق اکابر کی عائد کردہ پابندیوں جیسے محض سات اوزان کو بعد کے شعرانے درخوئے اعتنا نہیں سمجھا ۔ لہذا مثنوی میں ہر طرح کے خیالات کو ادا کرنے کی صلاحیت کبھی کم نہیں ہوئی۔ مثنوی کی ہیئت  میں نعتیہ ادب دو انداز سے ملتا ہے :  ایک واقعاتی و رومانوی مثنویوں کے آغاز میں ذیلی انداز سے حمد کے ساتھ نعت کے اشعار کی صورت میں اور دوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مقدسہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات وغیرہ کے بیان کی صورت میں۔ جنوبی ہند میں سب سے زیادہ مثنوی لکھی گئی ۔ اس دور میں اردو نعت کا سب سے زیادہ حصہ بھی مثنوی ہی کی ہیئت  میں ملتا ہے۔ آغاز میں ڈاکٹر اسماعیل آزاد کی اس رائے سے اختلاف کیا گیا ہے کہ چندائن کے شاعر ملا داؤد پہلے نعت گو شاعر ہیں ۔ چونکہ فاضل محقق  اپنے دعوے کے ثبوت میں کافی دلائل مہیا نہیں کر سکے ،لہذا خواجہ بندہ نواز کی پہلے اردو نعت گو ہونے کی حیثیت متاثر نہیں ہوتی۔ جنوبی ہند میں پہلے مثنوی نگار نظامی کی قدم راؤ پدم راؤ میں موجود نعتیہ عناصر کے ذکر کے ساتھ صدر الدین، شاہ میراں جی شمس العشاق، شاہ شرف،  شیخ بہاؤ الدین باجن،  شاہ علی محمد جیوگام دھنی، شاہ برہان الدین جانم،  خوب محمد چشتی،  بلاقی ،نصرتی ،مختار، عبدالمالک بھروچی، ملا وجہی ، غواصی، ابن نشاطی، رستمی  اوربحری سے لے کر ولی دکنی،  سراج اورنگ آبادی، ولی ویلوری،  قربی کے ہاں مثنوی کی ہیئت  میں نعتیہ اثاثے کا جائزہ لیا گیا ہے۔ شفیق لچھمی نارائن رائے پہلا غیر مسلم ہے، جس نے مثنوی کی ہیئت  میں نعت نظرانہ پیش کیا۔دکنی عہد مثنوی کا سنہری دور ہے جو اورنگزیب کی وفات کے ساتھ ختم ہوتا ہے اور شمالی ہند میں مثنوی کا جائزہ شروع ہوتا ہے۔  اس میں مرزا سودا ،میر قاسم، ناسخ، رنگین، مومن ،غلام امام شہید ،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، کفایت علی کافی، میر ضمیر، دیا شنکر نسیم ،میر حسن کی مثنویات میں نعتیہ عناصر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس دور میں نعتیہ مثنوی اتنی تو نہیں لکھی گئی، جتنی دکنی دور میں لکھی گئی تھی ،بہرحال اس دور کی زبان صاف رواں اور سہل ہے۔ تیسرا دور 1857 کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اس میں اہم نعتیہ مثنوی نگار امیر مینائی ،مرتضی حسن ،بیان ، مذاق، بدایونی، محسن کاکوروی ،ضیاء اللہ قادری، اسماعیل میرٹھی ،شائق دہلوی، ممتاز علی آہ، علامہ اقبال، محشر بدایونی، شمس الحق بخاری ،فضل جالندھری،آغا نوری اور مولانا اقبال سہیل ہیں۔ محسن کاکوروی کی مثنویات اس دور میں خصوصیت کی حامل ہیں۔  علاوہ  ازیں حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام اپنی نوعیت کا بہت بڑا  اور بہت کامیاب تجربہ تھا۔ اس عہد ساز تصنیف نے ما بعد شعرا پر بہت اثرات مرتب کیے۔ قیام پاکستان کے بعد مثنوی کی ہیئت  میں نعت لکھنے والوں میں سیماب اکبر آبادی، ماہر القادری، حافظ مظہر الدین حافظ، اختر الحامدی، فیض الحسن شاہ ،نواب علی قاضی ،حافظ لدھیانوی،ع۔س۔ مسلم ، عبدالعزیز خالد، خالد بزمی، راجہ رشید محمود ،مظفر وارثی اور بدر فاروق نمایاں ہیں۔ منظور کا جنگ نامہ اسلام مثنوی کی ہیئت میں ہے۔جاوید القادری نے سیرت طیبہ منظوم دو جلدوں میں لکھی ہے۔یہ مثنوی کم و بیش 24 ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔اس میں ناقدین کو بعض فنی کمزوریاں نظر آ سکتی ہیں ،لیکن عشق و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مزین اور تاریخی واقعات و حقائق کی حامل اتنی ضخیم مثنوی لکھنا بذات خود ایک اعزاز ہے۔مثنوی کی ہیئت  میں لکھے گئے سلاموں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔صادق بستوی نے داعی اسلام طویل مثنوی لکھی ،جس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح مبارکہ بیان کیے ہیں۔یہ طویل مثنوی غیر منقوط ہونے کے باعث خاص اہمیت کی حامل ہے۔تنویر پھول نے بھی ایک غیر منقوط نعتیہ نظم مثنوی کی ہیئت  میں لکھی ہے۔بدر فاروقی کے ہاں ہیئتی تجربے بھی ملتے ہیں۔ابو المجاہد کے ہاں مثنوی اور غزل کی ہیئتوں کا اجتماع ملتا ہے ۔یوں مثنوی کی تاریخ اور ہیئتی تجربوں کی روداد بھی سامنے آجاتی ہے۔  دکنی دور سے اب تک کا نعتیہ ادب مثنوی کی ایک شاندار روایت پر مبنی ہے۔

چوتھے باب میں

قصیدے اور غزل کی ہیئت  میں کہی گئی نعتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ عہد با عہد مطالعہ نعت   کے ساتھ ساتھ شعرا نے جو ہیئتی تجربات کیے ہیں ان کی تفصیل بھی بہم پہنچائی گئی ہے، نیز شعری مثالیں درج کی گئی ہیں۔ غزل کی ہیئت  اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ اس میں سب سے زیادہ نعت لکھی گئی ہے۔ بیسویں صدی کے آخری تین عشروں میں نعتیہ غزلوں کے مجموعے بڑی کثرت سے شائع ہوئے۔ یوں نعتیہ غزل کے حوالے سے یہ نعت کا سنہری دور قرار دیا جا سکتا ہے۔

پانچویں باب میں

مسمط کی مختلف شکلوں مثلث، مربع ،مخمس ،مسدس ،مثمن متسع اور معشّر میں نعتیہ عناصر کی نشاندہی مختلف ادوار کے حوالے سے کی گئی ہے۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کے ہاں اردو کی جو اولین نعتیں ملتی ہیں ان میں مثلث کی ہیئت  پر مشتمل نعتیں بھی ہیں۔ دکنی دور سے عہد حاضر تک کے اہم شعراء کے ہاں جو مثلث کی ہیئت  پر مشتمل نعتیں ملتی ہیں، ان کے نمونے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح مسمط کی باقی شکلوں کے نعتیہ نمونے دیے گئے ہیں۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ مسمط کی جن شکلوں کا عام اردو ادب میں بھی شاذہی استعمال ہوا ہے، وہ نعتیہ ادب میں کس خوبی سے استعمال ہوئی ہیں۔ ترکیب بند اور ترجیح بند کی تعریفیں اور اردو نعتوں میں ان کے نمونے دیے گئے ہیں۔اس ضمن میں اس باب سے متعلق جن شعری صورتوں میں نعت گو شعرا نے ہیئتی تجربے کیے ہیں، ان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

مقالے کا چھٹا باب

رباعی اور قطعہ سے متعلق ہے۔  اس میں ہر دو اصناف کی تعریفیں اور متعلقات دیے گئے ہیں۔رباعی کے سلسلے میں اوزان کی بحث سے یہی نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اگرچہ رباعی کے 36 بلکہ ہزار ہا اوزان کی لوگوں نے نشاندہی کی ہے، لیکن اصل رباعی وہی ہے جو مروجہ 24 اوزان سے متعلق ہو۔ اس ضمن میں رباعی کے اوزان سے ہٹ کر کہی گئی روایات کو رباعی تسلیم نہیں کیا گیا۔ قطعے کی تعریف اور اس کا رباعی سے فرق واضح کرتے ہوئے رباعی اور قطعے کے نمونہ نعتیہ ادب سے پیش کیے گئے ہیں۔ نعتیہ رباعی کی روایت بہت قدیم اور توانا ہے۔ چنانچہ اردو کے اولین نعت گوشعراسے لے کر دور حاضر کے شعراء تک نعتیہ رباعی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ قطعے کی تعریف و شناخت کے بعد نعتیہ قطعات کے نمونے درج کیے گئے ہیں۔ چونکہ اکثر نمونے چار مصروں پر مشتمل قطعات کے ہیں،  لہذا کہا جا سکتا ہے کہ شعراء نے قطعہ کی یہی ہیئت  سب سے زیادہ استعمال کی ہے۔ جن ہیئتوں کا تعلق جدید دور سے ہے، قدیم ادوار میں ان کی تلاش لاحاصل ہے۔ لہذا ان کے نعتیہ نمونے عصر حاضر کے شعراء کے کلام سے دیے گئے ہیں۔

آخری باب میں

مندرجہ بالا شعری ہیئتوں کے علاوہ بعض مروج ہیئتوں مثلا دوہا ،گیت، ترانہ ،سانیٹ، وائی، ماہیا ،ہائیکو وغیرہ کی تعریفیں دی گئی ہیں اور نعتیہ ادب سے نمونے درج کر کے واضح کیا گیا ہے کہ اردو نعت نے ہر ششعری ہیئت کو نوازا ہے۔

ان مباحث سے ثابت ہوتا ہے کہ نعت ایک ہمہ گیر اور پرتاثیر صنف سخن ہے۔دنیا کی کسی صنف شعر یا کسی ہیئت  شعر میں کسی شخص کی اتنی تعریف نہیں ہوئی، جتنی نعت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا بیان کی گئی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ منظوم مدح و ثنا پیش کرنے کی سعادت بھی اردو زبان ہی کو حاصل ہوئی ہے۔ کوشش کی گئی ہے کہ اس مقالے میں شعری  اصناف اور ہیئتوں کے مباحث کو بھرپور انداز میں پیش کیا جائے، نیز نعتوں کے ہیئتی مطالعے کو اولیت اور موضوعاتی مباحث کو ثانوی حیثیت دی گئی دی جائے۔ بفضل تعالی اس مقالے کے ذریعے اردو نعت کی صدیوں پر پھیلی ہوئی شعری روایت کی تاریخ اپنی مختلف ہیئتوں  کے ساتھ یکجا ہو گئی ہے۔اس مقالے کے مطالعے سے مختلف ہیئتوں کے پھیلاؤ اور ان میں کیے جانے والے ہیئتی تجربات بھی تفصیل کے ساتھ سامنے آگئے ہیں۔ پرانی اصناف اور ہیئتوں سے وابستہ پابندیوں کو جس طرح شعرا نے نظر انداز کر کے من پسند تبدیلیاں کی ہیں، اردو نعت کے نمونے ان تمام تبدیلیوں کے بھی امین ہیں۔لہذا اس کے مطالعے سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ نعت کا یہ ہے  تنوع فردا میں بھی ایسے ہی مائل بہ  ارتقا رہے گا، انشاءاللہ تعالی۔

میں اپنے روؤف الرحیم پروردگار کا بے حد شکر گزار ہوں کہ جس نے تحقیق کے لیے مجھے ایسے پاکیزہ موضوع سے نوازا ،جس پر کام کرتے ہوئے مجھے یوں لگتا تھا جیسے میں مصروف عبادت ہوں۔نعت کا تعلق صرف یوسف کنعاں (علیہ السلام) ہی کے نہیں بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین  (علیہم السلام )کے بھی امام و قائد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے ۔ اور مجھ  بے ہنر کے پاس تو وہ سوت کی اٹی بھی نہیں، جو مصری بڑھیا کے پاس تھی۔  لہذا میں کسی دعوے کے بغیر محض عجز اور ادب سے یہ مقالہ پیش کرتا ہوں۔یہ مقالہ چونکہ نعت سے متعلق ہے اور نعت دراصل حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت و ثنا ہے،  لہذا تسوید مقالہ کے دوران میری کیفیت ایک لرزاں و ترساں شخص جیسی رہی ہے اور یہ شعر ہمیشہ میرے پیش نظر رہا ہے :

ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می اید جنید وبا یزید ایں جا

مجھے آخر میں ایک ضروری اعتراف کرنا ہے وہ یہ کہ مناسب احتیاط اور کمال تگ و دو کے باوصف ممکن ہے کہ کسی نعت کو محترم کا ذکر اس مقالہ میں  نہ آ سکا ہو۔ حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے، تو ایسا ہونا ضروری بھی ہے۔  بھلا وہ کون سا انسان ہے جو یہ کہہ سکے کہ میں نے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے اول تا آخر سب نعت گو شعرا پر کما حقہ کام کر لیا ہے۔یہ خالق کائنات کا کام ہے، کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔  پھر بھی کسی وجہ سے اگر کسی محترم نعت گو  کا ذکر نہیں آسکا تو میں معذرت خواہ ہوں۔  اللہ کریم اور اس کے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری اس عاجزانہ کاوش کو قبول فرمائیں ۔ امین

افضال احمد انور

ایسوسی ایٹ پروفیسر جی سی یونیورسٹی فیصل آباد

مقالے کا مطالعہ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں 

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے