خاندان نبوت کے متعلق مستشرقین کے اشکالات کا علمی محاسبہ

یہ مقالہ ضیائے تحقیق، جلد ۱۵، شمارہ ۳۰ (جولائی تا دسمبر ۲۰۲۵) میں شائع ہوا جسے ڈاکٹر حافظ جاوید احمد نے تحریر کیا ہے۔

اسلام کے آغاز ہی سے یہود و نصاریٰ کی جانب سے قرآن و سنت کے خلاف مختلف نوعیت کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان کا مقصد انسانیت کو اس سرچشمۂ طہارت سے فیض یاب ہونے سے روکنا اور نبی اکرم ﷺ کی روشن اور پاکیزہ سیرت پر بہتان تراشی کے ذریعے لوگوں کو دینِ اسلام سے دور کرنا رہا ہے۔ عصرِ حاضر میں مستشرقین اور اسلام دشمن عناصر نے نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، آپؐ کے اہلِ بیت عظام  اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف من گھڑت اعتراضات اور بے بنیاد الزامات پیش کرنے کا سلسلہ مزید تیز کر دیا ہے۔ کبھی وہ آپ ﷺکے آباء و اجداد، بالخصوص حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام، کے مقام و مرتبے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی آپﷺ کے عرب نسب پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جاتے ہیں، اور کبھی قریش اور بنو ہاشم کی قیادت، عظمت اور شان و شوکت کا انکار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس سے ظلم، دہشت گردی، مال و اقتدار کی حرص، غربت اور افلاس جیسے الزامات منسوب کیے جاتے ہیں(نعوذ باللہ تعالیٰ)، جبکہ بعض مواقع پر آپﷺ کے مالدار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کو تنگ دستی اور مشکلات سے جوڑا جاتا ہے، اور اس کے برعکس کفر و شرک کے حامل افراد کو دولت و قیادت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں مستشرقین کی جانب سے نبی اکرم ﷺ کی شخصیت، خاندان، قریبی رشتہ داروں اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم کے بارے میں اٹھائے گئے شبہات اور اعتراضات کو بیان کر کے ان کا تحقیقی اور تنقیدی اسلوب میں جائزہ لیا گیا ہے۔

مکمل مقالہ پڑھے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

خاندان نبوت کے متعلق مستشرقین کے اشکالات کا علمی محاسبہ

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے