نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل اور نبی کریمﷺ کی شفقت آمیز ہدایات

یہ مقالہ پاکستان جرنل آف اسلامک ریسرچ، جلد ۲۶، شمارہ ۲ میں شائع ہوا جسے جناب حافظ ہارون احمد اور جناب علی شیر حیدری نے مشترکہ طور پر لکھا ہے۔

سیرتِ نبوی ﷺ اسلامی علمی روایت کا ایک مستقل اور ہمہ جہت میدانِ تحقیق رہا ہے، جس میں ہر دور کے اہلِ علم نے اپنی فکری استعداد، منہجی ترجیحات اور علمی وسائل کے مطابق حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلوؤں کو موضوعِ بحث بنایا ہے۔ سوانح نگاروں، محدثین، مفسرین اور مؤرخین نے رسولِ اکرم ﷺ کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے مختلف ابعاد کو نہایت دقتِ نظر سے مرتب کیا، جس کے نتیجے میں آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کا کوئی گوشہ تحقیق سے تشنہ نہیں رہا۔ اخلاقی اوصاف، انفرادی کردار، معاشرتی اصلاح، ریاستی نظم و نسق، عسکری حکمتِ عملی، خاندانی نظام، عدالتی اصول، اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات پر مفصل علمی مباحث سامنے آئے، اور ان سے انسانی زندگی کے لیے اصولی و ضابطہ جاتی رہنمائی اخذ کی گئی۔

اگرچہ سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ ہر عہد میں امتِ مسلمہ کے لیے مرکزِ توجہ رہا ہے، تاہم بدلتے ہوئے سماجی، نفسیاتی اور فکری تناظر میں بعض جہات کی از سرِ نو تفہیم اور تطبیق کی ضرورت شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ معاصر دور میں تیز رفتار سماجی تبدیلی، ڈیجیٹل ثقافت، مسابقتی تعلیمی ماحول اور معاشی دباؤ کے باعث نوجوان نسل متعدد نفسیاتی اور وجودی مسائل سے دوچار ہے۔ اس پس منظر میں سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ کو نفسیاتی اور تربیتی زاویے سے از سرِ نو منظم انداز میں پیش کرنا ایک اہم علمی تقاضا ہے۔

نوجوانی انسانی نشوونما کا ایک انتقالی (transitional) اور فیصلہ کن مرحلہ ہے، جس میں فرد حیاتیاتی، ذہنی اور جذباتی سطح پر نمایاں تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ جدید نفسیاتی مطالعات کے مطابق اس دور میں شناخت (identity formation)، خود اعتمادی، سماجی وابستگی اور مستقبل کی منصوبہ بندی جیسے عوامل مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی مرحلے میں احساسِ کمتری، اضطراب (anxiety)، خوف، غصہ، مایوسی، شناختی بحران (identity crisis) اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر ان کی بروقت اور حکیمانہ رہنمائی نہ کی جائے تو یہ کیفیات اخلاقی انحراف، فکری انتشار اور نفسیاتی دباؤ (psychological stress) کا سبب بن سکتی ہیں۔

سیرتِ نبوی ﷺ نوجوانوں کے نفسیاتی اور تربیتی مسائل کے حل کے لیے ایک متوازن، جامع اور فطرت سے ہم آہنگ ماڈل فراہم کرتی ہے۔ آپؐ کا طرزِ تعامل نوجوانوں کے ساتھ شفقت، اعتماد سازی (trust-building)، تدریجی تربیت اور انفرادی استعداد کے احترام پر مبنی تھا۔ آپؐ نے نوجوانوں کی فطری امنگوں، جذباتی تقاضوں اور ذہنی سطح کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی رہنمائی فرمائی۔ آپؐ کا تعلیمی و اصلاحی منہج تحقیر، جبر یا سختی کے بجائے حکمت (wisdom-based pedagogy)، مکالمہ (constructive dialogue)، اور مثبت تقویت (positive reinforcement) پر استوار تھا۔

چنانچہ موجودہ دور کے نفسیاتی اور سماجی چیلنجز کے تناظر میں سیرتِ رسول ﷺ کو محض تاریخی بیانیہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک اطلاقی (applied) اور عملی نمونۂ حیات کے طور پر پیش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نوجوان نسل کی فکری تشکیل، اخلاقی استحکام اور نفسیاتی توازن کو یقینی بنایا جا سکے۔

مکمل مقالہ پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

نوجوانوں کے نفسیاتی مسائل اور نبی کریمﷺ کی شفقت آمیز ہدایات

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے