اہلِ صفّہ اور اسلام کی اشاعت میں ان کا کردار

نمبر (00028#)

یہ مضمون  د . تنيضب بن عواد الفايدي كي عربی کتاب " أهل الصفة ودورهم في نشر الإسلام” کے مقدمہ کا اردو ترجمہ ہے ، جو ڈاکٹر ابو عمار نے کیا ہے۔ اس کتاب میں اہل صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مختصر احوال اور ان کے اشاعت اسلام میں شاندار کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب تین مباحث پر مشتمل ہے، جن کی تفصیل مصنف کے مقدمہ کے آخری پیرا گراف میں دی گئی ہے۔کتاب کے باب دوم میں ایک سو تین (103) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ذکر خیر اور احوال شامل کیے گئے ہیں۔ 

تفصیل کتاب

اسم الكتاب : أهل الصفة ودورهم في نشر الإسلام
اسم المصنف : د . تنيضب بن عواد الفايدي
الناشر: المستودع الرقمي لمركز بحوث و دراسات المدينة المنورة
اللغة : العربية  
الطبعة الاولي : 2014

مقدمہ

اہلِ صفّہ اور اسلام کی اشاعت میں ان کا کردار

اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ درود و سلام ہو ہمارے نبی محمد ﷺ پر، اور آپ کی آل اطہار اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر۔ اما بعد:

اس کتاب کی اصل ایک خطبہ (لیکچر) تھی جو جامعہ اسلامیہ کے ہال میں اہلِ صفّہ اور اسلام کی اشاعت میں ان کا کردار کے عنوان سے پیش کیا گیا تھا۔ موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر یہ خیال پیدا ہوا کہ اس خطبے کو کتابی صورت میں مرتب کیا جائے اور اس میں مناسب اضافہ بھی کیا جائے، تاکہ اس کا فائدہ عام ہو سکے۔ اس لیے کہ ہمیں ان عظیم ہستیوں کی سیرت کے مطالعے کی شدید ضرورت ہے اور ان کی زندگیوں سے ایمان کی وہ روشنی حاصل کرنا مقصود ہے جس سے ہم اس مادّہ پرست دور کی تیز آندھیوں اور طوفانوں میں اپنی زندگی کا راستہ روشن کر سکیں۔ وہ صبر، قناعت، ایثار، علم کی طلب، جہاد، عبادت، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول ﷺ سے محبت میں ہر مسلمان کے لیے ایک مثالی نمونہ ہیں۔

اہلِ صفّہ کی حیات و خدمات کا مطالعہ محض ایک سرسری سوانح نہیں، بلکہ تاریخ کے عظیم کرداروں کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ ہے؛ کیونکہ ان کے اقوال و افعال بلکہ ان کی پوری زندگی اسلام کے پیغام کی عملی تعبیر اور اس کے سماجی اطلاق کی زندہ مثال پیش کرتی ہے۔ ان کی زندگیاں زمین پر قائم ہونے والے بہترین انسانی معاشرے کا نمونہ تھیں، اور ان میں سے ہر فرد اس بات کی عملی تفسیر تھا کہ ایک مسلمان کو کیسا ہونا چاہیے۔ افسوس کے ساتھ یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ اہلِ صفّہ کے بارے میں عام لوگوں ہی نہیں بلکہ بعض اہلِ علم میں بھی آگاہی کی کمی پائی جاتی ہے اور ان کے کارناموں کی اشاعت و تعارف میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ان کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ ان کے فضل و کمال کے اعتراف اور نورِ مبین کی اشاعت اور اسلامی احکام کے نفاذ میں ان کی خدمات کی قدر شناسی ہے۔

اہلِ صفّہ مہاجرین میں سے فقراء تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے  اور رسولِ اکرم ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا، جیسا کہ انہوں نے کہا:

“اے ہمارے رب! ہم نے ایمان کی پکار دینے والے کو سنا جو ایمان کی دعوت دے رہا تھا، پس ہم ایمان لے آئے۔”(1۔  سورة آل عمران الآية (۱۹۳))
چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول مکرم  ﷺ کی طرف ہجرت کر گئے اور اپنی جانوں کی قربانی اور بلند اخلاق کے ساتھ ایک عملی نمونہ بن گئے۔ انہوں نے دنیا کی لذتوں اور آرائشوں کو ترک کر دیا، اپنے وطن چھوڑ دیے اور راحتوں سے دست بردار ہو گئے۔ ان کے نزدیک اپنی جان و مال اور رشتہ دار سب معمولی ہو گئے، اور انہوں نے آخرت کی نعمتوں کو دنیا کی زیب و زینت پر ترجیح دی۔ انہوں نے دینِ اسلام کی خاطر ہر طرح کی مشقت اور آزمائش برداشت کی، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے انہیں “عرب کے دیوانے” کہا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:

“میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر اور حضرت عائشہؓ کے حجرے کے درمیان بے ہوش گر پڑتا تھا، لوگ آتے، میری گردن پر پاؤں رکھ دیتے اور سمجھتے کہ مجھے جنون ہے، حالانکہ مجھے جنون نہ تھا، مجھے صرف بھوک لگی ہوتی تھی۔”(2۔   رواه البخاري في كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة برقم (٦٨٩٣))

اہلِ صفّہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنی زندگیاں تعلیم و تربیت اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت کے لیے وقف کر دی تھیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ  کے ذکر سے نہ کوئی تجارت غافل کرتی تھی اور نہ خرید و فروخت۔ ابو نعیمؒ نے ان کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے لوگ تھے جنہیں حق تعالیٰ نے دنیاوی لذتوں کی طرف جھکاؤ سے بچا لیا تھا اور دنیا کی فتنہ انگیزی سے محفوظ رکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تارک دنیا  عارفین کے لیے اسوہ بنایا(3 ۔  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبي نعيم الأصفهاني (٣٧٥/١))۔  وہ نہ اہل و عیال کے سہارے تھے اور نہ مال و دولت کے، انہیں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے کوئی شے غافل نہ کرتی تھی۔ انہیں دنیا کے چھوٹ جانے پر کوئی  افسوس ہوتا اور نہ آخرت کے ملنے پر  کوئی غرور۔ ان کی خوشی اپنے معبود و مالک کے ساتھ وابستہ تھی اور ان کا غم وقت کے ضائع ہونے پر ہوتا تھا۔نہ کوئی تجارت اور نہ خرید و فروخت انہیں اللہ کے ذکر سے غافل کرتی تھی، وہ اس پر رنجیدہ نہ ہوتے تھے جو ان کے ہاتھ سے نکل گیا، اور نہ ہی اس پر خوشی سے اتراتے تھے جو انہیں ملا۔ ان کے مالکِ حقیقی نے انہیں دنیا کی لذتوں سے لطف اندوز ہونے اور اس میں حد سے زیادہ منہمک ہونے سے محفوظ رکھا، تاکہ وہ نہ سرکشی کریں اور نہ حد سے تجاوز کریں۔ انہوں نے فوت ہو جانے والی چیزوں کے بکھر جانے پر غم کرنا چھوڑ دیا تھا اور فانی دنیا سے وابستہ نسب و تعلق پر فخر و مسرت کو بھی ترک کر دیا تھا۔

اصحاب صُفّہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا اولین مقصد علم حاصل کرنا، دین میں فقاہت پیدا کرنا اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار کرنا تھا، تاکہ وہ آپ ﷺ کے علم کے پاکیزہ چشمے سے وہ چیزیں حاصل کریں جو دین و دنیا میں ان کے لیے نافع ہوں اور آپ ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کریں۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ ان میں سے محدثین، مفسرین اور فقہاء پیدا ہوئے، جیسے حضرت حذیفہ بن یمانؓ، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور دیگر اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ یہ حضرات دنیا کے مشرق و مغرب میں پھیل گئے اور دینِ اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کو عام کیا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اسلامی تعلیمات کی طرف دعوت دی اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو قولاً و عملاً نشر کیا؛ کیونکہ انہوں نے اپنا زیادہ وقت آپ ﷺ کی صحبت میں گزارا تھا۔ ان کی خلوت عبادت، تلاوتِ قرآن، آیات کے تدبر اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں گزرتی تھی۔ لہٰذا ان کی سیرت کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے عظیم عبرت و فائدہ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ  اور اس کے رسول مکرم ﷺ پر ایمان رکھتا ہے، اور ایمان کی قوت اور دینی جذبے کو بیدار کرنے کے لیے یہ سیرتیں نہایت مضبوط ذریعہ ہیں، خصوصاً اس دور میں جب لوگ دنیا اور اس کی آرائش کی طرف دوڑ رہے ہیں۔

حضرت طلحہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اگر مدینہ میں اس کا کوئی میزبان یا سرپرست ہوتا تو وہ اس کے ہاں قیام کرتا، اور اگر اس کا کوئی میزبان نہ ہوتا تو وہ اہلِ صفّہ کے ساتھ ٹھہرتا۔ میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو صفّہ میں ٹھہرے تھے۔ میں ایک شخص کے ساتھ رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہم دو آدمیوں کے لیے روزانہ کھجور کا ایک مُد (پیمانہ) آتا تھا۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم میں سے ایک شخص نے آپ  ﷺ کو پکار کر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا دیے ہیں اور ہماری چادریں (الخنف) پھٹ گئی ہیں (اور “الخُنُف” یمنی طرز کی دھاری دار چادروں کو کہا جاتا ہے)۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ منبر کی طرف مڑے اور اس پر  جلوہ افروز ہوئے، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی سختیوں کا ذکر کیا، یہاں تک فرمایا: مجھ پر اور میرے ایک ساتھی پر کئی دن ایسے گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لیے “برِیر” کے سوا کچھ نہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اپنے والد سے پوچھا: اے ابا جان! “برِیر” کیا چیز ہے؟ انہوں نے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ کی غذا تھی، یعنی درختِ اراک کا پھل۔ پھر ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس آئے جن کی زیادہ تر خوراک کھجور تھی، تو انہوں نے اس میں ہمارے ساتھ مواسات کی۔ اللہ تعالیٰ  کی قسم! اگر میرے پاس تمہیں روٹی اور گوشت کھلانے کو ہوتا تو میں تمہیں سیر کر دیتا، لیکن قریب ہے کہ تم ایک ایسے زمانے کو پا لو گے کہ تم میں سے ایک شخص کے سامنے صبح کو ایک بڑا برتن رکھا جائے گا اور شام کو دوسرا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم آج بہتر ہیں یا اس دن؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بلکہ تم آج بہتر ہو؛ آج تم ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہو، اور اس دن تم ایک دوسرے کی گردنیں مار رہے ہو گے—میرا خیال ہے آپ نے فرمایا: تم اس وقت ایک دوسرے سے بغض رکھنے والے ہو گے۔(4 ۔  رواه الحاكم في المستدرك حديث رقم ( ٤٢٩٠) ، وابن حبان في صحيحه حديث رقم .(٦٦٨٤))

رسول اللہ ﷺایک بار   اصحاب صفہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کے پاس سے گزرے جب وہ آپس میں علم کا مذاکرہ کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ندا فرمائی: “اے مہاجرین کے فقیرو! تمہیں قیامت کے دن مکمل نور کی خوش خبری ہو؛ تم لوگ امیروں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہو گے، اور وہ آدھا دن پانچ سو سال کے برابر ہوگا۔”(5 ۔  مسند أحمد بن حنبل رقم الحديث (۱۱۳۸۹) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٢١). )

اہلِ صفّہ رسول اللہ ﷺ کے سایۂ عاطفت میں پروان چڑھے، انہوں نے آپ ﷺ کے کلام، صحبت اور اخلاق سے تعلیم حاصل کی۔ رسول اللہ ﷺ مختلف اوقات میں ان کے پاس تشریف لاتے، ان کے حالات دریافت فرماتے اور انہیں اسلام کے احکام سکھاتے، نیز اپنے دین کی تعلیم دینے کی ترغیب دیتے تھے۔ موسیٰ بن علی بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو کہتے سنا کہ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے سنا: ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس صفّہ میں تشریف لائے اور فرمایا: “تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ وہ ہر صبح بطحان یا عقیق جائے اور وہاں سے دو موٹی اور خوبصورت اونٹنیاں لے آئے؟” ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم سب یہ پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کسی کا مسجد کی طرف جانا اور کتابُ اللہ کی دو آیات سیکھ لینا اس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے، تین آیات تین سے بہتر ہیں، چار چار سے بہتر ہیں، اور اسی طرح جتنی آیات ہوں اتنی ہی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔”(6۔  أخرجه مسلم في كِتَاب صَلاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ، بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاةِ وَتَعَلُّمه برقم (١٣٤٢) وأخرجه ابن داود برقم (١٢٤٦).) ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرے جب آپ ﷺ اہلِ صفّہ کو سورۂ نساء پڑھا رہے تھے۔

اہلِ صفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اگرچہ مکمل طور پر عبادت، علم کے حصول اور دین میں فقاہت کے لیے وقف تھے، لیکن اس کے باوجود یہ چیز انہیں غزوات میں شرکت سے باز نہ رکھتی تھی۔ وہ گویا ایک ہنگامی دستے کی مانند تھے ، جو ہر لمحہ کسی بھی موقع پر شرکت کے لیے تیار رہتے تھے۔ وہ رات کو زاہد اور دن کو سوار مجاہد تھے۔ صفوان بن بیضاءؓ، خُرَیم بن فاتک اسدیؓ، خبیب بن یسافؓ، سالم بن عمیرؓ اور حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہم اہلِ صفّہ میں سے تھے؛ انہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت کی اور شہادت پائی۔ اسی طرح  حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ (غسیلُ الملائکہ) اُحد میں شہید ہوئے، جن کا واقعہ معروف ہے۔ جُرہد بن خُوَیلد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو سریحہ غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیبیہ میں شریک ہوئے۔ خیبر میں ثقف بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے، تبوک میں عبداللہ ذو البجادین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہادت پائی، یمامہ میں ابو حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام سالم رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید ہوئے، اور بعض حضرات بئرِ معونہ کے دن شہید ہوئے۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین

معاشرے کی مضبوط بنیاد اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک حال کو ماضی کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ اسی لیے زندہ اور بیدار قومیں اپنی تاریخ میں دل چسپی لیتی ہیں اور اس کا گہرے مطالعے کے ساتھ جائزہ لیتی ہیں، تاکہ اس میں موجود آثار، اسرار اور واقعات کو سمجھ سکیں۔ اہلِ صفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسلام کے پھیلاؤ میں عملی اور نمایاں کردار ادا کیا اور پرانی تہذیب کو اسلامی تہذیب سے بدلنے میں گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے اپنے اقوال، افعال اور روایات کے ذریعے اسلام کو پھیلایا؛ کیونکہ وہی لوگ تھے جو صاحبِ رسالت ﷺ کے ساتھ رہے اور آپ ﷺ کے فرامین کو سمجھ کر انہیں عملی صورت میں نافذ کرتے رہے۔ اہلِ صفّہ کے اہداف بالفعل پورے ہوئے اور انہی کے ذریعے اسلام مختلف جہات میں پھیلا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی گواہی اس پر بڑی واضح دلیل ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے صفّہ میں اپنے ساتھ تین سو سے زیادہ افراد کو دیکھا، پھر بعد میں ان میں سے ہر ایک کو کسی نہ کسی ولایت یا امارت کے منصب پر فائز دیکھا۔ اور نبی کریم ﷺ نے ایک دن جب ان کے حال کو دیکھا تو فرمایا:

:اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا، اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں ہی وارث بنائیں۔”

لہٰذا ان جلیل القدر ہستیوں کی سیرتوں کا مطالعہ کرنا اور مختلف نمائشوں، سیمیناروں اور خطبات میں ان کے حالاتِ زندگی کو پیش کرنا، تاکہ اسلام کی اشاعت اور اس کے نفاذ میں ان کی کوششیں واضح ہوں، ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ نیز ان میں سے ہر شخصیت پر مزید تحقیقی کام ہونا چاہیے؛ کیونکہ وہ علم و ہدایت کے مینار ہیں، اور ان کی زندگیوں کی تاریخ ایک قیمتی وراثت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔ ان کی زندگیاں ایسی صالح مثال ہیں جن میں عبرت و نصیحت کے پہلو پائے جاتے ہیں۔

کتاب کے مباحث

میں نے اس کتاب کو تین مباحث میں تقسیم کیا ہے:

 پہلے مبحث میں صفّہ کا تعارف، اس کا محلِ وقوع، تعمیر، اہلِ صفّہ کی تعداد، ان کے حالات اور رسول اللہ ﷺ کی ان کے ساتھ خصوصی عنایت وغیرہ بیان کی ہے؛

دوسرے مبحث میں ان تمام افراد کے مختصر حالات ذکر کیے ہیں جن کے اہلِ صفّہ میں شامل ہونے کا ثبوت ملا، نیز ان کی بعض صحیح روایات نقل کی ہیں تاکہ قارئین کو حدیثِ رسول ﷺ کی تعلیم اور حفاظت میں ان کی دل چسپی اور محنت کا اندازہ ہو سکے، اور پھر یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد انہوں نے جن معاشروں کا رخ کیا وہاں ان احادیث کو کیسے منتقل کیا؛

تیسرے مبحث میں یہ واضح کیا ہے کہ اہلِ صفّہ نے اسلام کے پھیلاؤ میں کس طرح کردار ادا کیا۔

میں اپنے اس کام کو نہ کامل سمجھتا ہوں اور نہ خطا سے پاک؛ کمال تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ جو شخص یہ گمان کرے کہ اس نے علم کو پوری طرح گھیر لیا ہے، اس نے درحقیقت اپنی حقیقت کو نہ پہچانا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس عمل کو خالص اپنے لیے قبول فرمائے اور مسلمانوں کے لیے نفع بخش بنائے۔ ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور صحابہ کرامؓ پر بہت زیادہ درود و سلام ہو۔

“اے اللہ! ہمیں کوئی علم نہیں مگر وہی جو تو نے ہمیں سکھایا ہے، بے شک تو ہی سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔”

مصنف
غُرّۂ محرم 1435ھ

کتاب کا لنک 

کتاب کے مطالعہ  کے لیے لنک پر کلک کیجئے

اسماء صحابه كرام رضوان الله عليهم اجمعين

ذیل میں ان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعیں کے اسماء مبارکہ کی فہرست  شامل ہے، جن کا ذکر خیر کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ 

  1. حضرت الأصم العامري، ثم البكائي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  2. حضرت أبو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  3. حضرت أبو برزة الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  4. حضرت أبو ثعلبة الخشني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  5. حضرت أبو ذر الغفاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  6. حضرت أبو رزين رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  7. حضرت أبو ريحانة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  8. حضرت أبو سلمة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  9. حضرت أبو عبيدة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  10. حضرت أبو عسيب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  11. حضرت أبو فراس الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  12. حضرت رفاعة أبو لبابة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  13. حضرت مرثد بن أبي مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  14. حضرت أبو مويهية رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  15. حضرت أبو هريرة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  16. حضرت أسماء بن حارثة بن سعيد الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  17. حضرت البراء بن مالك بن النضر الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  18. حضرت بشير بن معبد السدوسي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  19. حضرت بلال بن رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  20. حضرت ثوبان بن بجدد رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  21. حضرت جارية بن حميل بن نشبة بن قرط رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  22. حضرت جرهد بن خويلد الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  23. حضرت جعيل بن سراقة الضمري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  24. حضرت حارثة بن النعمان الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  25. حضرت حازم بن حرملة بن مسعود الغفاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  26. حضرت حذيفة بن اليمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  27. حضرت حرملة بن عبدالله بن إياس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  28. حضرت الحكم بن عمير الثمالي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  29. حضرت حنظلة بن أبي عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  30. حضرت خباب بن الأرت التميمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  31. حضرت خبيب بن يساف بن عتبة، أبو عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  32. حضرت خريم بن أوس الطائي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  33. حضرت خريم بن فاتك الأسدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  34. حضرت خنيس بن حذافة القرشي السهمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  35. حضرت زيد بن الخطاب بن نفيل القرشي العدوي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  36. حضرت السائب بن خلاد بن سويد الأنصاري الخزرجي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  37. حضرت سالم بن عبيد الأشجعي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  38. حضرت سالم بن عمير رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  39. حضرت سالم بن معقل مولى أبي حذيفة رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  40. حضرت سعيد بن عامر بن حذيم الجمحي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  41. حضرت سفينة مولى رسول الله له رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  42. حضرت سلمان الفارسي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  43. حضرت شداد بن أسيد رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  44. حضرت شقران مولى رسول الله رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  45. حضرت صفوان بن بيضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  46. حضرت صهيب بن سنان الرومي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  47. حضرت طخفة بن قيس الغفاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  48. حضرت طلحة بن عمرو النضري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  49. حضرت عباد بن خالد الغفاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  50. حضرت عبادة بن قرص (وقيل: قرط) الكناني الليثي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  51. حضرت عبد الرحمن بن جبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  52. حضرت عبد الرحمن بن قرط الثمالي الحمصي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  53. حضرت عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  54. حضرت عبدالله بن أنيس الجهني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  55. حضرت عبدالله بن بدر الجهني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  56. حضرت عبدالله بن حبشي الخثعمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  57. حضرت عبدالله بن حوالة الأزدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  58. حضرت عبد الله بن عمر بن الخطاب بن نفيل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  59. حضرت عبدالله بن مسعود الهذلي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  60. حضرت عبدالله ذو البجادين المزني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  61. حضرت عبيد مولى رسول الله رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  62. حضرت عتبة بن الندر السلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  63. حضرت عتبة بن عبد السلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  64. حضرت عتبة بن غزوان المازني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  65. حضرت عتبة بن مسعود الهذلي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  66. حضرت عثمان بن مظعون القرشي الجمحي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  67. حضرت العرباض بن سارية (أبو نجيح) رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  68. حضرت عقبة بن عامر الجهني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  69. حضرت عكاشة بن محصن الأسدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  70. حضرت عمرو بن تغلب النمري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  71. حضرت عمرو بن عبسة السلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  72. حضرت عمرو بن عوف المزني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  73. حضرت عمير بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  74. حضرت عويم بن ساعدة الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  75. حضرت عياض بن حمار المجاشعي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  76. حضرت غرفة الأزدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  77. حضرت فرات بن حيان العجلي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  78. حضرت فضالة بن عبيد الأنصاري الأوسي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  79. حضرت قرة بن إياس المزني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  80. حضرت كعب بن عمرو الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  81. حضرت كعب بن مالك الخزرجي الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  82. حضرت مسطح بن أثاثة (أبو عباد) رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  83. حضرت مسعود بن الربيع القاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  84. حضرت مصعب بن عمير القرشي العبدري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  85. حضرت معاذ بن الحارث الأنصاري الخزرجي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  86. حضرت معاوية بن الحكم السلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  87. حضرت المقداد بن الأسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  88. حضرت هند بن حارثة بن هند الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  89. حضرت وابصة بن معبد الأسدي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  90. حضرت واثلة بن الأسقع الليثي (أبو الأسقع) رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  91. حضرت وهب بن حذيفة بن عباد بن خلاد الغفاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  92. حضرت يسار الجهمي (أبو فكيهة) رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  93. حضرت أبو أيوب الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  94. حضرت أبو سعيد الخدري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  95. حضرت أوس بن حذيفة الثقفي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  96. حضرت ثابت بن الضحاك الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  97. حضرت ثابت وديعة بن خذام الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  98. حضرت حبيب بن زيد بن عاصم الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  99. حضرت حجاج بن عمرو الأسلمي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  100. حضرت حذيفة بن أسيد الأنصاري رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  101. حضرت دكين بن سعيد المزني رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  102. حضرت سعد بن أبي وقاص القرشي رضی اللہ تعالیٰ عنہ
  103. حضرت عمار بن ياسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حوالہ جات

  • 1
    ۔  سورة آل عمران الآية (۱۹۳)
  • 2
    ۔   رواه البخاري في كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة برقم (٦٨٩٣)
  • 3
    ۔  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء لأبي نعيم الأصفهاني (٣٧٥/١)
  • 4
    ۔  رواه الحاكم في المستدرك حديث رقم ( ٤٢٩٠) ، وابن حبان في صحيحه حديث رقم .(٦٦٨٤)
  • 5
    ۔  مسند أحمد بن حنبل رقم الحديث (۱۱۳۸۹) وسنن ابن ماجة برقم (٤٢٢١).
  • 6
    ۔  أخرجه مسلم في كِتَاب صَلاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا ، بَاب فَضْلِ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الصَّلاةِ وَتَعَلُّمه برقم (١٣٤٢) وأخرجه ابن داود برقم (١٢٤٦).
Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے