اردو سیرت نگاری میں معجزات کے کلامی مباحث کا مطالعہ

یہ مقالہ ڈاکٹر شمائلہ اسحق  اور ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی نے تحریر کیا ہے ۔ جو گورنمنٹ کالگ وومن یونیورسٹی سیالکوٹ کے  مجلہ  العلم  کی جلد نمبر ۵ شمارہ  نمبر ۱ میں  ۱۸ مارچ  ۲۰۲۱ کو شائع ہوا ۔ بنیادی طور پر یہ مقالہ ڈاکٹر  شمائلہ اسحق کے…

خاندان نبوت کے متعلق مستشرقین کے اشکالات کا علمی محاسبہ

یہ مقالہ ضیائے تحقیق، جلد ۱۵، شمارہ ۳۰ (جولائی تا دسمبر ۲۰۲۵) میں شائع ہوا جسے ڈاکٹر حافظ جاوید احمد نے تحریر کیا ہے۔ اسلام کے آغاز ہی سے یہود و نصاریٰ کی جانب سے قرآن و سنت کے خلاف مختلف نوعیت کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان…

فلاحی ریاست کے استحکام میں دفاعی افواج کا کردار:عہدِ رسول ﷺ کے غزوات اور سرایا کے تناظر میں فوجی تنظیم

یہ مقالہ المیزان، جلد ۴، شمارہ ۱ (جنوری تا مارچ) میں شائع ہو جسے ڈاکٹر مظفر علی نے تحریر کیا ہے۔ اسلامی دور کی ابتدائی عسکری مہمات جزیرۂ عرب میں اسلام کے پھیلاؤ اور مسلم اقتدار کے استحکام میں بنیادی کردار کی حامل رہی ہیں۔ یہ مہمات رسول اللہ…

رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کی تقویم وتوقیت کے متعلق سیرت نگاروں کے نقطہ نظر کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

یہ مقالہ مجلہ المیزان، جلد ۴، شمارہ ۲(اپریل تا جون ۲۰۲۲) میں شائع ہوا ۔ جسے ڈاکٹر صبغت اللہ ، ڈاکٹر عبد الماجد  اور ڈاکٹر امان اللہ نے مشترکہ طور پر لکھا۔  رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مختلف مؤرخین، علماء، اور سیرت…
سیرت کی اشتراکی تعبیرات: شرقاوی کی سیرت نگاری کامطالعہ

سیرت کی اشتراکی تعبیرات: شرقاوی کی سیرت نگاری کامطالعہ

یہ ڈاکٹر غلام فاطمہ کا مقالہ ہے، جو اصلا ان کی پی ایچ ڈی کی تحقیق کا حصہ ہے۔ ان کی پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ مصر کی جدید سیرت نگاری پر ہے۔زیر نظر مضمون میں انہوں نے مصری ادیب اور وکیل عبد الرحمن الشرقاوی کی سیرت نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ جنہوں نے سیرت کو اشتراكي نقطہ نظر سے اجاگر کیا ہے۔ یہ مضمون علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے شعبہ سیرت کے مجلہ “سیرت سٹڈیز” کے شمارہ نمبر۸، جلد ۸ (۲۰۲۳) میں شائع ہوا ہے ۔ اس مضمون میں مصنفہ نے ۱۹۵۲ کے مصری انقلاب کے بعد اخوان المسلمین اور جمال عبد الناصر کے درمیان مخاصمت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ابتداء میں مصنفہ نے عبدالرحمن الشرقاوی کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ان کی سیرت نگاری کے پس منظر کو بیان کیا ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 1952 کے فوجی انقلاب کے بعد جمال عبدالناصر اور اخوان المسلمین کے تعلقات دو سال تک اچھے رہے۔ اس کے بعد جمال عبدالناصر جب عرب اشتراکیت اور عرب قومیت کا داعی بن کر ابھرا تو اس کے اخوان المسلمین سے تعلقات خراب ہو گئے ۔ ان حالات میں اخوان المسلمین کو تعزیب و ابتلا کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے کارکنان اور قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔ جمال عبدالناصر مصری معاشرے میں تبدیلی کے لیے اشتراکی اور سیکولر افکار کو فروغ دینا چاہتا تھا جس کے لیے شرقاوی جیسے مصنفین اور دانشوروں نے خدمات فراہم کی ۔ شرقاوی نے سیرت کو اس انداز میں پیش کیا کہ وہ اشتراکی نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے کام دے سکے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کو معاشی لحاظ سے طاقتور اور معاشی لحاظ سے محروم طبقات کی کشمکش کے نقطہ نظر سے اجاگر کیا ۔