بر صغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدمات سیرت۔ سیرت کانفرنس

بر صغیر پاک و ہند میں صوفیاء کی خدمات سیرت۔ سیرت کانفرنس

سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین اسلام کے حقیقی فہم کی بنیاد ہے ،جو امت مسلمہ کی فکری اور عملی اصلاح میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔برصغیر پاک و ہند میں سیرت طیبہ کی بنیادوں پر اسلام کی ترویج و اشاعت میں صوفیائے کرام کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔صوفیا نے اس خطے میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریری اور عملی ترویج کے ذریعے روحانی وہ اخلاقی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیا۔برصغیر میں صوفیانہ ادب میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھاپ بہت گہری ہے اور یہی وجہ ہے کہ اخلاقی اصلاح کے میدان میں اور غیر مسلموں کے قبول اسلام کے سلسلہ میں صوفیاء کی خدمات کو بے پناہ پذیر ائی حاصل ہوئی ہے۔اسی تناظر میں شعبہ سیرت سٹڈیز علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کر رہا ہے، جس کا موضوع"بر صغیر پاک و ہند میں صوفیا کی خدمات سیرت"ہے. اس موضوع سے متعلق سیرت النبی ﷺکے اہم محاور پر علمی گفتگو اور تحقیقات پیش کی جائیں گی۔ ماہرین اور محققین سیرت کو مقالات لکھنے کی دعوت دی جاتی ہے، تاکہ اس علمی ورثے کو اجاگر کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج اور اسلامی تعلیمات کی فہم و اشاعت میں ایک سنگ میل ثابت ہوگی اور امت مسلمہ کی فکری و عملی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔
 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

تاریخ سیرت کے مطالعہ میں ان محرکات و عوامل کا مطالعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، جن کی وجہ سے سیرت نگاری کے مختلف رحجانات جنم لیتے ہیں یا کسی خاص دور میں مقبولیت حاصل کر کے اس فن کی روایت کو کوئی خاص سمت عطا کرتے ہیں۔برصغیر میں سیرت نگاری کی تاریخ کی بہتر تفہیم کے لیے یہ ضروری اور مفید معلوم ہوتا ہے کہ خاص دور جدید کے تناظر میں دیکھا جائے کہ مختلف جدید رحجانات کے اسباب و محرکات کیا ہیں۔ یہ مطالعہ اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں پچھلی دو صدیوں میں سیرت طیبہ کا وقیع ادب وجود میں آیا جو کیفیت و کمیت میں اس عرصہ میں عربی سمیت تمام زبانوں کے ادب سیرت پر فائق ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی جیسی معیاری اور تحقیقی کتاب عربی میں نہیں لکھی گئی۔ اسی عرصہ کے دوران سیرت نگاری کے بعض نئے رجحانات سامنے آئے، جن میں سے بعض رجحانات مختلف عوامل کی وجہ سے سامنے آئے۔ اس مقالہ میں بر صغیر کے لحاظ سے خصوصی اسباب و عوامل کا تجزیاتی مطالعہ کیا جانا مقصود ہے۔ سیرت نگاری یا دیگر علوم میں کوئی بھی رجحان عموما جن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہےان میں مواد کا انتخاب، مواد کے مآخذ، مواد کی پیشکش کا منہج و اسلوب ، شخصی و قومی اعتقادات و تصورات کی تصویر گری اورعلم کے ابلاغ میں زمانے کی مخصوص تکنیکی سہولیات سے استفادہ کے طریقوں کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ذیل میں برصغیر کی اردو سیرت نگاری کے تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیرت نگاری کے متنوع جدید رجحانات کن اسباب و عوامل کے تابع جنم لے کر مقبول ہوئے ۔
سیرت کانفرنس ۔ الحمد اسلامک یونیورسٹی

سیرت کانفرنس ۔ الحمد اسلامک یونیورسٹی

تين روزه بين الاقوامي سيرت كانفرنس عالم اسلام كو درپيش سياسي ، سماجي اور معاشي چيلنجز اور ان كا تدارك ۔ سيرت النبي ﷺ کی روشنی میں 1۔تعارف مقالات جمع کروانے کی آخری تاریخ ۔۔۔۔ 10 مئی 2025 ۔ كانفرنس كا انعقاد كراچي ميں 22مئی 2025، كائٹه ميں 24 مئی 2025 اور اسلام آباد ميں 31 مئی 2025 کو منعقد ہو گی۔ 2۔مقالات كي زبانيں مقالات اردو انگريزي ، عربي اور فارسي ميں پيش كيے جا سكتے هيں۔ 3۔انعامات بهترين مقالات كے ليے بالترتيب اول ، دوم اور سوم انعامات مبلغ ايك لاكه ، پچهتر هزار اور پچاس هزار مقرر كيے گئے هيں۔
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

انسان مدنی الطبع ہے( [mfn] علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں :"أنّ الاجتماع الإنسانيّ ضروريّ ويعبّر الحكماء عن هذا بقولهم الإنسان مدنيّ بالطّبع " ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد ،ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر، ، المحقق: خليل شحادة،دار الفكر، بيروت،الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م،( ج 1/ ص 54 )[/mfn])۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ سب انسانوں کی ضروریات مشترکہ ہیں جو ایک دوسرے سے پوری ہوتی ہیں۔ دوسروں کی مدد سے ہی انسان بھوک ،بیماری، موسموں کی شدت ، خوف اور دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس کی انفرادی زندگی اجتماعیت کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، جو حقوق و فرائض کے ضابطوں سے تشکیل پاتا ہے۔یہی ضابطے اس کے تحفظ، اس کی بقاء اور اس کی نسل کی ترقی کے ضامن ہیں۔ فرد کا حق، اجتماع کا فرض اور اجتماع کا حق، فرد کا فرض ہے۔ انسانی حیات کی بقاء و سلامتی اور اس کرہ ارض کا امن اس بات پر منحصر ہے کہ  ایک انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھےاور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتے، اس کے بدلے لوگ اس کے حقوق کا خیال رکھیں اور یوں زندگی اپنے نظم سے مزین ہو ، جو حسن حیات کا مطلوب و مقصود ہے۔
منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)( 1) فرما کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو ہمارے لیے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ قرآن حکیم اور صاحب قرآن کی سیرت کی مکمل حفاظت کا اہتمام اللہ تعالی کی طرف سے کیا گیا۔ قرآن حکیم کے پیغام کو سمجھنے کے لیے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس کے احکامات کی تفسیر و تشریح کے لیے، سنت اور سیرت طیبہ سے بڑھ کر کوئی اور رہنما نہیں ہو سکتا تھا۔لہذا سیرت نبوی ﷺ پر ہر وقت کے علماء نے کتب لکھیں اور اپنے اپنے زمانے کو سیرت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں دیکھااور ہدایت پائی اور اپنی خوش بختی اس بات میں سمجھی کہ انہیں سیرت پر قلم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی۔ چنانچہ دور صحابہؓ سے لے کر آج تک بیشمار کتب ہر دور میں لکھی گئیں۔اس کے علاوہ سیرت نگا ری میں عمل تکثیر کا تعلق قرآ ن پاک کے فر مان (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ)( 2)سے نہا یت قو ی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت چو نکہ ایمان کی علا مت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذ ر یعہ بھی ہے اس لیے بھی ہر دو ر کی طر ح اس دور میں بھی علما ء کی کو شش رہی کہ وہ سیرت کی زیا دہ سے ز یا دہ خدمت کر یں۔ اسکےعلاوہ دیگر اسباب نے ملکر دور حاضر میں سیرت نگاری کو نئی جہتوں اور رجحانات سے آشنا کیا۔