سیرت کی اشتراکی تعبیرات: شرقاوی کی سیرت نگاری کامطالعہ

سیرت کی اشتراکی تعبیرات: شرقاوی کی سیرت نگاری کامطالعہ

یہ ڈاکٹر غلام فاطمہ کا مقالہ ہے، جو اصلا ان کی پی ایچ ڈی کی تحقیق کا حصہ ہے۔ ان کی پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ مصر کی جدید سیرت نگاری پر ہے۔زیر نظر مضمون میں انہوں نے مصری ادیب اور وکیل عبد الرحمن الشرقاوی کی سیرت نگاری کا جائزہ لیا ہے۔ جنہوں نے سیرت کو اشتراكي نقطہ نظر سے اجاگر کیا ہے۔ یہ مضمون علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے کلیہ عربی و علوم اسلامیہ کے شعبہ سیرت کے مجلہ “سیرت سٹڈیز” کے شمارہ نمبر۸، جلد ۸ (۲۰۲۳) میں شائع ہوا ہے ۔ اس مضمون میں مصنفہ نے ۱۹۵۲ کے مصری انقلاب کے بعد اخوان المسلمین اور جمال عبد الناصر کے درمیان مخاصمت سے پیدا شدہ حالات کا جائزہ لیا ہے۔ ابتداء میں مصنفہ نے عبدالرحمن الشرقاوی کا مختصر ذکر کرنے کے بعد ان کی سیرت نگاری کے پس منظر کو بیان کیا ہے ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ 1952 کے فوجی انقلاب کے بعد جمال عبدالناصر اور اخوان المسلمین کے تعلقات دو سال تک اچھے رہے۔ اس کے بعد جمال عبدالناصر جب عرب اشتراکیت اور عرب قومیت کا داعی بن کر ابھرا تو اس کے اخوان المسلمین سے تعلقات خراب ہو گئے ۔ ان حالات میں اخوان المسلمین کو تعزیب و ابتلا کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے کارکنان اور قیادت کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ۔ جمال عبدالناصر مصری معاشرے میں تبدیلی کے لیے اشتراکی اور سیکولر افکار کو فروغ دینا چاہتا تھا جس کے لیے شرقاوی جیسے مصنفین اور دانشوروں نے خدمات فراہم کی ۔ شرقاوی نے سیرت کو اس انداز میں پیش کیا کہ وہ اشتراکی نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے کام دے سکے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدوجہد کو معاشی لحاظ سے طاقتور اور معاشی لحاظ سے محروم طبقات کی کشمکش کے نقطہ نظر سے اجاگر کیا ۔
حضرت ابو طالب کے قصیدہ لامیہ کا تحقیقی جائزہ

حضرت ابو طالب کے قصیدہ لامیہ کا تحقیقی جائزہ

مقالات مجلات  # (1) 1۔عنوان  رسول اللہ ﷺ کے دفاع میں حضرت ابو طالب کا قصیدہ لامیہ کا تحقیقی جائزہ Poetry of Abu Talib in the fovour of Prophet (PBUH) 1۔تعارف  یہ مقالہ   نبی اکرم ﷺ کے چچا جان حضرت ابو طالب کے انحضور ﷺ کے دفاع میں کہے…
رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

سیرت طیبہ پر تقریبا ہر زبان ، ہر خطے اور ہر زمانے میں علما نے اپنی کاوشوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور صاحب سیرت ﷺ کی خدمت اقدس میں نیاز مندی کا اظہار کیا ہے۔ سیرت اور متعلقات سیرت کے ہر موضوع پر لا تعداد بڑی چھوٹی کتب لکھی گئیں ، جو اصلا ً سیرت کے دور تدوین کی کتب سے ماخوذ اور ان پر مبنی ہیں۔ یہ دور دوسری ، تیسری اور چوتھی صدی ہجری پر مشتمل ہے ۔ اس میں علوم اسلامیہ کی دیگر شاخوں سمیت سیرت کے بنیادی مصادر مدون ہوئے اور مختلف علمی و تدوینی رجحانات پیدا ہوئے اور مقبول ہوتے رہے۔ سیرت نگاری میں ایک رجحان مختصر سیرت نگاری کا ہے۔ یہ رجحان ابن سعد کی کتاب الطبقات کی ابتدا میں اجمالی فصل سیرت سے شروع ہو کر امام بخاری ؒ ، ابن قتیبہؒ، علامہ فسویؒ کی کتب تاریخ کے نامکمل ابواب اور علامہ یعقوبی کی کتاب التاریخ کے جامع اور مکمل باب سیرت کے ذریعے سے ارتقا کی منازل طے کرتا ہوا، پہلی بار ایک نامکمل، مگر مستقل مختصر کتاب سیرت ” أوجز السير لخير البشر” کی صورت میں واضح شکل اختیار کر گیا ۔ یہ کتاب مذکور مشہور لغوی ابو الحسین احمد بن فارس بن زکریا الرازی (ت۳۹۵ھ) کی تصنیف ہے، جو اس مقالہ میں ہمارے پیش نظر اور زیر تبصرہ ہے۔
  علامہ المسعودي كي سيرت نگاري کا مطالعہ 

  علامہ المسعودي كي سيرت نگاري کا مطالعہ 

ابو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی (346ھ / 957م)حضرت عبداللہ بن مسعود کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے مسعودی نسبت رکھتے ہیں۔ آپ ایک ممتازمؤرخ ہیں۔ ان کی ولادت 283 ہجری میں بغداد میں ہوئی۔ اپنے وقت کے متعدد اساتذہ اور شیوخ سے استفادہ کیا ۔ علامہ مسعودی نے دنیا کی طویل سیاحتیں كيں اورانہوں ے المغرب کے سوا تقریباً پورے عالم اسلام اسپین اور ہندوستان کے سفر کئے،جس میں ان کی سیاحتیں زیادہ تر مشہور مقامات اور ساحلی علاقوں تک محدود تھیں۔ اپني ان سياحتوں کے دوران مسعودی نے متعدد اہم شخصیات اور مختلف اقوام اور علاقوں کے متعلق اپنے مشاہدات اور تجربات کو قلم بند کیا ۔۔ہر سفر کے بعد وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو ایک کتاب میں قلمبند کرتے(1)۔ بدقسمتی سے ان کی کتابیں ضائع ہو گئیں،لیکن ان کی دو اہم کتابیں مروج الذهب ومعادن الجوهر اور التنبيه و الاشراف دست برد زمانہ سے محفوظ رہ گئیں۔ مذكوره دونوں ہی کتابوں میں سیرت کا مختصر باب شامل ہے،جو اس مقالہ میں تبصرہ کے لیے شامل ہیں۔
خلاصة سير سيد البشرﷺ۔محب الطبری 

خلاصة سير سيد البشرﷺ۔محب الطبری 

"خلاصة سير سيد البشر" علامہ محب الدین احمد الطبری کی مختصر کتاب سیرت ہے، جو سیرت اور متعلقات سیرت کے اہم مضامین کا احاطہ کرتی ہے۔ سیرت نگاری کا ایک مقبول رجحان مختصر نگاری کا بھی ہے ، جس میں ایک مختصر رسالہ، کتابچہ یا کسی بڑی کتاب کے ایک مختصر باب کی صورت میں حیات مبارکہ اور سیرت کے اہم متعلقات پر مواد پیش کیا جاتا ہے ۔ اس رجحان کی ابتدا امام بخاری ؒ (المتوفی 256 ھ) کی التاریخ الکبیر اور احمد بن ابی يعقوب ،ابن واضح(المتوفی 292ھ) کی تاریخ یعقوبی سے ہوئی۔ بعد ازاں یہ روایت علامہ احمدبن فارس الرازی (المتوفٰی 395) كی اوجز السير لخير البشر اور متعدد وقیع آزاد رسائل کی صورت میں صدیوں پر محیط سیرت کے ادب کا اہم حصہ بن گئی، جن میں المختصر الكبير فی سيرة الرسول ﷺ ازعز الدين عبد العزيز بن بدر الدين الكنانی (المتوفٰی767ھ)، علامہ عبد الغنی بن عبد الواحد المقدسی (المتوفٰی 600 ھ) کی مختصر سيرة النبی و أصحابہ العشرة ، مشہور صوفی امام محی الدین ابن عربی (المتوفٰی 638ھ) کی اختصار سيرة الرسول اور علامہ محب الدين احمد الطبری (المتوفى 694ھ) کی زير نظر كتاب اہم ہيں۔ سیرت رسول اللہ ﷺ پر یہ کتاب مقبول ہوئی، جس سے بعد کے سیرت نگاروں نے بھرپور استفادہ کیا ہے ۔ اس کتاب کے مخطوطات دنیا بھر کےذخائر کتب میں موجود ہیں اور اس کی متعدد بارطباعت ہو چکی ہے۔ اس مضمون میں کتاب کے مضامین اور مؤلف گرامی کے منہج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور مختصر سیرت نگاری میں اس کتاب کے مقام و مرتبہ کو اجاگر کیا گیا ہے۔