رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

سیرت طیبہ پر تقریبا ہر زبان ، ہر خطے اور ہر زمانے میں علما نے اپنی کاوشوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور صاحب سیرت ﷺ کی خدمت اقدس میں نیاز مندی کا اظہار کیا ہے۔ سیرت اور متعلقات سیرت کے ہر موضوع پر لا تعداد بڑی چھوٹی کتب لکھی گئیں ، جو اصلا ً سیرت کے دور تدوین کی کتب سے ماخوذ اور ان پر مبنی ہیں۔ یہ دور دوسری ، تیسری اور چوتھی صدی ہجری پر مشتمل ہے ۔ اس میں علوم اسلامیہ کی دیگر شاخوں سمیت سیرت کے بنیادی مصادر مدون ہوئے اور مختلف علمی و تدوینی رجحانات پیدا ہوئے اور مقبول ہوتے رہے۔ سیرت نگاری میں ایک رجحان مختصر سیرت نگاری کا ہے۔ یہ رجحان ابن سعد کی کتاب الطبقات کی ابتدا میں اجمالی فصل سیرت سے شروع ہو کر امام بخاری ؒ ، ابن قتیبہؒ، علامہ فسویؒ کی کتب تاریخ کے نامکمل ابواب اور علامہ یعقوبی کی کتاب التاریخ کے جامع اور مکمل باب سیرت کے ذریعے سے ارتقا کی منازل طے کرتا ہوا، پہلی بار ایک نامکمل، مگر مستقل مختصر کتاب سیرت ” أوجز السير لخير البشر” کی صورت میں واضح شکل اختیار کر گیا ۔ یہ کتاب مذکور مشہور لغوی ابو الحسین احمد بن فارس بن زکریا الرازی (ت۳۹۵ھ) کی تصنیف ہے، جو اس مقالہ میں ہمارے پیش نظر اور زیر تبصرہ ہے۔

  علامہ المسعودي كي سيرت نگاري کا مطالعہ 

ابو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی (346ھ / 957م)حضرت عبداللہ بن مسعود کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے مسعودی نسبت رکھتے ہیں۔ آپ ایک ممتازمؤرخ ہیں۔ ان کی ولادت 283 ہجری میں بغداد میں ہوئی۔ اپنے وقت کے متعدد اساتذہ اور شیوخ سے استفادہ کیا ۔ علامہ مسعودی نے دنیا کی طویل سیاحتیں كيں اورانہوں ے المغرب کے سوا تقریباً پورے عالم اسلام اسپین اور ہندوستان کے سفر کئے،جس میں ان کی سیاحتیں زیادہ تر مشہور مقامات اور ساحلی علاقوں تک محدود تھیں۔ اپني ان سياحتوں کے دوران مسعودی نے متعدد اہم شخصیات اور مختلف اقوام اور علاقوں کے متعلق اپنے مشاہدات اور تجربات کو قلم بند کیا ۔۔ہر سفر کے بعد وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو ایک کتاب میں قلمبند کرتے(1)۔ بدقسمتی سے ان کی کتابیں ضائع ہو گئیں،لیکن ان کی دو اہم کتابیں مروج الذهب ومعادن الجوهر اور التنبيه و الاشراف دست برد زمانہ سے محفوظ رہ گئیں۔ مذكوره دونوں ہی کتابوں میں سیرت کا مختصر باب شامل ہے،جو اس مقالہ میں تبصرہ کے لیے شامل ہیں۔