برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

تاریخ سیرت کے مطالعہ میں ان محرکات و عوامل کا مطالعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، جن کی وجہ سے سیرت نگاری کے مختلف رحجانات جنم لیتے ہیں یا کسی خاص دور میں مقبولیت حاصل کر کے اس فن کی روایت کو کوئی خاص سمت عطا کرتے ہیں۔برصغیر میں سیرت نگاری کی تاریخ کی بہتر تفہیم کے لیے یہ ضروری اور مفید معلوم ہوتا ہے کہ خاص دور جدید کے تناظر میں دیکھا جائے کہ مختلف جدید رحجانات کے اسباب و محرکات کیا ہیں۔ یہ مطالعہ اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں پچھلی دو صدیوں میں سیرت طیبہ کا وقیع ادب وجود میں آیا جو کیفیت و کمیت میں اس عرصہ میں عربی سمیت تمام زبانوں کے ادب سیرت پر فائق ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی جیسی معیاری اور تحقیقی کتاب عربی میں نہیں لکھی گئی۔ اسی عرصہ کے دوران سیرت نگاری کے بعض نئے رجحانات سامنے آئے، جن میں سے بعض رجحانات مختلف عوامل کی وجہ سے سامنے آئے۔ اس مقالہ میں بر صغیر کے لحاظ سے خصوصی اسباب و عوامل کا تجزیاتی مطالعہ کیا جانا مقصود ہے۔ سیرت نگاری یا دیگر علوم میں کوئی بھی رجحان عموما جن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہےان میں مواد کا انتخاب، مواد کے مآخذ، مواد کی پیشکش کا منہج و اسلوب ، شخصی و قومی اعتقادات و تصورات کی تصویر گری اورعلم کے ابلاغ میں زمانے کی مخصوص تکنیکی سہولیات سے استفادہ کے طریقوں کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ذیل میں برصغیر کی اردو سیرت نگاری کے تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیرت نگاری کے متنوع جدید رجحانات کن اسباب و عوامل کے تابع جنم لے کر مقبول ہوئے ۔
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

انسان مدنی الطبع ہے( [mfn] علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں :"أنّ الاجتماع الإنسانيّ ضروريّ ويعبّر الحكماء عن هذا بقولهم الإنسان مدنيّ بالطّبع " ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد ،ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر، ، المحقق: خليل شحادة،دار الفكر، بيروت،الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م،( ج 1/ ص 54 )[/mfn])۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ سب انسانوں کی ضروریات مشترکہ ہیں جو ایک دوسرے سے پوری ہوتی ہیں۔ دوسروں کی مدد سے ہی انسان بھوک ،بیماری، موسموں کی شدت ، خوف اور دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس کی انفرادی زندگی اجتماعیت کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، جو حقوق و فرائض کے ضابطوں سے تشکیل پاتا ہے۔یہی ضابطے اس کے تحفظ، اس کی بقاء اور اس کی نسل کی ترقی کے ضامن ہیں۔ فرد کا حق، اجتماع کا فرض اور اجتماع کا حق، فرد کا فرض ہے۔ انسانی حیات کی بقاء و سلامتی اور اس کرہ ارض کا امن اس بات پر منحصر ہے کہ  ایک انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھےاور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتے، اس کے بدلے لوگ اس کے حقوق کا خیال رکھیں اور یوں زندگی اپنے نظم سے مزین ہو ، جو حسن حیات کا مطلوب و مقصود ہے۔
منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)( 1) فرما کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو ہمارے لیے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ قرآن حکیم اور صاحب قرآن کی سیرت کی مکمل حفاظت کا اہتمام اللہ تعالی کی طرف سے کیا گیا۔ قرآن حکیم کے پیغام کو سمجھنے کے لیے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس کے احکامات کی تفسیر و تشریح کے لیے، سنت اور سیرت طیبہ سے بڑھ کر کوئی اور رہنما نہیں ہو سکتا تھا۔لہذا سیرت نبوی ﷺ پر ہر وقت کے علماء نے کتب لکھیں اور اپنے اپنے زمانے کو سیرت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں دیکھااور ہدایت پائی اور اپنی خوش بختی اس بات میں سمجھی کہ انہیں سیرت پر قلم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی۔ چنانچہ دور صحابہؓ سے لے کر آج تک بیشمار کتب ہر دور میں لکھی گئیں۔اس کے علاوہ سیرت نگا ری میں عمل تکثیر کا تعلق قرآ ن پاک کے فر مان (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ)( 2)سے نہا یت قو ی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت چو نکہ ایمان کی علا مت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذ ر یعہ بھی ہے اس لیے بھی ہر دو ر کی طر ح اس دور میں بھی علما ء کی کو شش رہی کہ وہ سیرت کی زیا دہ سے ز یا دہ خدمت کر یں۔ اسکےعلاوہ دیگر اسباب نے ملکر دور حاضر میں سیرت نگاری کو نئی جہتوں اور رجحانات سے آشنا کیا۔
رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

رسالہ سیرت ’’أوجز السير لخير البشر‘‘کا مطالعہ

سیرت طیبہ پر تقریبا ہر زبان ، ہر خطے اور ہر زمانے میں علما نے اپنی کاوشوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور صاحب سیرت ﷺ کی خدمت اقدس میں نیاز مندی کا اظہار کیا ہے۔ سیرت اور متعلقات سیرت کے ہر موضوع پر لا تعداد بڑی چھوٹی کتب لکھی گئیں ، جو اصلا ً سیرت کے دور تدوین کی کتب سے ماخوذ اور ان پر مبنی ہیں۔ یہ دور دوسری ، تیسری اور چوتھی صدی ہجری پر مشتمل ہے ۔ اس میں علوم اسلامیہ کی دیگر شاخوں سمیت سیرت کے بنیادی مصادر مدون ہوئے اور مختلف علمی و تدوینی رجحانات پیدا ہوئے اور مقبول ہوتے رہے۔ سیرت نگاری میں ایک رجحان مختصر سیرت نگاری کا ہے۔ یہ رجحان ابن سعد کی کتاب الطبقات کی ابتدا میں اجمالی فصل سیرت سے شروع ہو کر امام بخاری ؒ ، ابن قتیبہؒ، علامہ فسویؒ کی کتب تاریخ کے نامکمل ابواب اور علامہ یعقوبی کی کتاب التاریخ کے جامع اور مکمل باب سیرت کے ذریعے سے ارتقا کی منازل طے کرتا ہوا، پہلی بار ایک نامکمل، مگر مستقل مختصر کتاب سیرت ” أوجز السير لخير البشر” کی صورت میں واضح شکل اختیار کر گیا ۔ یہ کتاب مذکور مشہور لغوی ابو الحسین احمد بن فارس بن زکریا الرازی (ت۳۹۵ھ) کی تصنیف ہے، جو اس مقالہ میں ہمارے پیش نظر اور زیر تبصرہ ہے۔

  علامہ المسعودي كي سيرت نگاري کا مطالعہ 

ابو الحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی (346ھ / 957م)حضرت عبداللہ بن مسعود کی اولاد میں سے ہونے کی وجہ سے مسعودی نسبت رکھتے ہیں۔ آپ ایک ممتازمؤرخ ہیں۔ ان کی ولادت 283 ہجری میں بغداد میں ہوئی۔ اپنے وقت کے متعدد اساتذہ اور شیوخ سے استفادہ کیا ۔ علامہ مسعودی نے دنیا کی طویل سیاحتیں كيں اورانہوں ے المغرب کے سوا تقریباً پورے عالم اسلام اسپین اور ہندوستان کے سفر کئے،جس میں ان کی سیاحتیں زیادہ تر مشہور مقامات اور ساحلی علاقوں تک محدود تھیں۔ اپني ان سياحتوں کے دوران مسعودی نے متعدد اہم شخصیات اور مختلف اقوام اور علاقوں کے متعلق اپنے مشاہدات اور تجربات کو قلم بند کیا ۔۔ہر سفر کے بعد وہ اپنے مشاہدات اور تجربات کو ایک کتاب میں قلمبند کرتے(1)۔ بدقسمتی سے ان کی کتابیں ضائع ہو گئیں،لیکن ان کی دو اہم کتابیں مروج الذهب ومعادن الجوهر اور التنبيه و الاشراف دست برد زمانہ سے محفوظ رہ گئیں۔ مذكوره دونوں ہی کتابوں میں سیرت کا مختصر باب شامل ہے،جو اس مقالہ میں تبصرہ کے لیے شامل ہیں۔