Posted inتحقیقات سیرت
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ
انسان مدنی الطبع ہے( [mfn] علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں :"أنّ الاجتماع الإنسانيّ ضروريّ ويعبّر الحكماء عن هذا بقولهم الإنسان مدنيّ بالطّبع " ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد ،ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر، ، المحقق: خليل شحادة،دار الفكر، بيروت،الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م،( ج 1/ ص 54 )[/mfn])۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ سب انسانوں کی ضروریات مشترکہ ہیں جو ایک دوسرے سے پوری ہوتی ہیں۔ دوسروں کی مدد سے ہی انسان بھوک ،بیماری، موسموں کی شدت ، خوف اور دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس کی انفرادی زندگی اجتماعیت کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، جو حقوق و فرائض کے ضابطوں سے تشکیل پاتا ہے۔یہی ضابطے اس کے تحفظ، اس کی بقاء اور اس کی نسل کی ترقی کے ضامن ہیں۔ فرد کا حق، اجتماع کا فرض اور اجتماع کا حق، فرد کا فرض ہے۔ انسانی حیات کی بقاء و سلامتی اور اس کرہ ارض کا امن اس بات پر منحصر ہے کہ ایک انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھےاور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتے، اس کے بدلے لوگ اس کے حقوق کا خیال رکھیں اور یوں زندگی اپنے نظم سے مزین ہو ، جو حسن حیات کا مطلوب و مقصود ہے۔