عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تا عصر حاضر اجتہادی مساعی کا جائزہ

یہ مقالہ مجلہ المیزان جلد ۴ شمارہ ۲ (اپریل تا جون ۲۰۲۲) میں شائع ہوا۔ جسے جناب حق نواز اور ڈاکٹر حمیرا احمد نے مشترکہ طور پر لکھا۔ بعض محققین کےہاں  اجتہادکا  دروازہ بند ہونے کا تصور پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ مؤقف درست نہیں، کیونکہ عہدِ نبوی…

رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کی تقویم وتوقیت کے متعلق سیرت نگاروں کے نقطہ نظر کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

یہ مقالہ مجلہ المیزان، جلد ۴، شمارہ ۲(اپریل تا جون ۲۰۲۲) میں شائع ہوا ۔ جسے ڈاکٹر صبغت اللہ ، ڈاکٹر عبد الماجد  اور ڈاکٹر امان اللہ نے مشترکہ طور پر لکھا۔  رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر مختلف مؤرخین، علماء، اور سیرت…
مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبی ﷺ اسلامی تاریخ، سیرت نگاری اور دینی شعور کی اہم ترین روایات میں سے ہے۔ یہ وہ عظیم الشان موضوع ہے جس پر صدیوں سے عرب و عجم کے علماء نے اپنی محنتیں صرف کیں اور مختلف النوع کتب تصنیف کیں۔ عربی زبان میں مولد النبی ﷺ کے موضوع پر لکھی گئی کتب اپنی اصل ماخذی حیثیت، تاریخی گہرائی اور علمی جامعیت کے سبب غیر معمولی مقام رکھتی ہیں۔ یہ کتب نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے حالات و واقعات کو بیان کرتی ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی دینی، تہذیبی اور فکری تاریخ کا آئینہ بھی پیش کرتی ہیں۔علمی دنیا میں ببلوگرافی (Bibliography) اور جامع فہرستیں اس بات کو ممکن بناتی ہیں کہ محققین اور قارئین کسی موضوع پر لکھی جانے والی قدیم و جدید کتب تک منظم اور آسان رسائی حاصل کر سکیں۔ چنانچہ مولد النبی ﷺ پر عربی کتب کی یہ ببلوگرافی اور فہرست دراصل ایک ایسا علمی رہنما ہے جو اس موضوع کے سنجیدہ طالب علموں، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ اس میں وہ تمام بنیادی اور ثانوی ماخذ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو صدیوں کے علمی سرمایے کا حصہ ہیں۔یہ فہرست محض ایک حوالہ جاتی کام نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز بھی ہے، جو سیرت النبی ﷺ کے اس پہلو پر اسلامی تہذیب کی فکری اور روحانی جستجو کی جھلک دکھاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ کوشش محققین کے لیے تحقیق و مطالعہ کی نئی راہیں کھولے گی اور قارئین کو مولد النبی ﷺ کی روایت سے قریب تر لے جائے گی۔
قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

امام بوصیریؒ (608ھ/1212ء – 695ھ/1296ء) کا پورا نام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری ہے۔ آپ مصر کے قصبے "بوصیر" میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے بوصیری کہلائے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور بعد میں مصر کے علمی مراکز سے فیض اٹھایا۔ آپ فصیح و بلیغ شاعر، نعت گو، صوفی اور شافعی فقیہ تھے۔ عربی زبان و ادب پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی جس کی بنا پر آپ کے کلام کو ادب اور روحانیت دونوں میدانوں میں خاص مقام حاصل ہوا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کو زندہ جاوید انداز میں پیش کیا اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا۔ان کی سب سے مشہور تصنیف قصیدہ بردہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی مدح میں لکھی گئی شہرۂ آفاق نعتیہ نظم ہے۔ یہ قصیدہ برصغیر، مصر، افریقہ اور عالمِ اسلام میں یکساں مقبول ہوا اور صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور مساجد میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ روایات کے مطابق امام بوصیری شدید بیماری میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ قصیدہ لکھا اور خواب میں نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک چادر ان پر ڈال دی، جس کے بعد ان کی صحت بحال ہوگئی۔ اسی وجہ سے اس کا نام "القصیدہ البردہ" رکھا گیا