اہلِ صفّہ اور اسلام کی اشاعت میں ان کا کردار

اہلِ صفّہ اور اسلام کی اشاعت میں ان کا کردار

یہ مضمون  د . تنيضب بن عواد الفايدي كي عربی کتاب " أهل الصفة ودورهم في نشر الإسلام" کے مقدمہ کا اردو ترجمہ ہے ، جو ڈاکٹر ابو عمار نے کیا ہے۔ اس کتاب میں اہل صفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مختصر احوال اور ان کے اشاعت اسلام میں شاندار کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ کتاب تین مباحث پر مشتمل ہے، جن کی تفصیل مصنف کے مقدمہ کے آخری پیرا گراف میں دی گئی ہے۔کتاب کے باب دوم میں ایک سو تین (103) صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا ذکر خیر اور احوال شامل کیے گئے ہیں۔ 
قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

امام بوصیریؒ (608ھ/1212ء – 695ھ/1296ء) کا پورا نام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری ہے۔ آپ مصر کے قصبے "بوصیر" میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے بوصیری کہلائے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور بعد میں مصر کے علمی مراکز سے فیض اٹھایا۔ آپ فصیح و بلیغ شاعر، نعت گو، صوفی اور شافعی فقیہ تھے۔ عربی زبان و ادب پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی جس کی بنا پر آپ کے کلام کو ادب اور روحانیت دونوں میدانوں میں خاص مقام حاصل ہوا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کو زندہ جاوید انداز میں پیش کیا اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا۔ان کی سب سے مشہور تصنیف قصیدہ بردہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی مدح میں لکھی گئی شہرۂ آفاق نعتیہ نظم ہے۔ یہ قصیدہ برصغیر، مصر، افریقہ اور عالمِ اسلام میں یکساں مقبول ہوا اور صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور مساجد میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ روایات کے مطابق امام بوصیری شدید بیماری میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ قصیدہ لکھا اور خواب میں نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک چادر ان پر ڈال دی، جس کے بعد ان کی صحت بحال ہوگئی۔ اسی وجہ سے اس کا نام "القصیدہ البردہ" رکھا گیا
المختصر الكبير في سيرة الرسولﷺ

المختصر الكبير في سيرة الرسولﷺ

المختصر الكبير في سيرة الرسول ﷺاور اس كي تلخيصات كا تقابلي وتجزياتي مطالعه تعارف: سيرت  رسول الله ﷺ  کی ترویج و اشاعت میں آغاز اسلام سے عصر حاضرتک غیر معمولی تعداد پر مشتمل  علما نے اپنی  زندگیاں بسر کیں اور مطول و مختصر کتب لکھنے کی سعادت پائی ۔ خاندان…