قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

الفصل العاشر

بابُ فِي الدُّعَاءِ وَالْمَدْحِ الْخِتَامِيّ

دعا اور اختتامی مدح کا باب
موضوع: نبی کریم ﷺ کی مدح و دعا پر نظم کا اختتام، امت کے لیے شفاعت کی دعا۔

شعر 153 –

يَآ اَكْرَمَ الْخَلْقِ مَالِیْ مَنْ اَلُوْذُ بِهٖ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُوْلِ الْحَادِثِ الْعَمَمٖ

اے سب مخلوق سے زیادہ مکرم ہستی! حادثوں اور مصیبتوں کے وقت میرے لئے تیرے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 154

وَلَنْ يَّضِيْقَ رَسُوْلَ اللّٰهِ جَاهُكَ بِیْ
اِذَاالْكَرِيْمُ تَجَلّٰى بِاسْمِ مُنْتَقِمٖ

اور اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کی شان میرے لئے تنگ نہ ہوگی، جب کریم رب اپنے انتقام والے نام کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 155 –

فَاِنَّ مِنْ جُوْدِكَ الدُّنْيَا وَضَرَّتَهَا
وَمِنْ عُلُوْمِكَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ

دنیا اور آخرت دونوں آپ کی سخاوت سے ہیں، اور لوح و قلم کا علم آپ کے علوم میں سے ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 156

يَا نَفْسُ لَا تَقْنَطِیْ مِنْ زَلَّةٍ عَظُمَتْ
اِنَّ الْكَبَآئِرَ فِی الْغُفْرَانِ كَاللَّمَمٖ

اے نفس! کسی بڑے گناہ پر مایوس نہ ہونا، بےشک بڑے گناہ بھی اللہ کی مغفرت میں چھوٹے گناہوں کی طرح ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 157

لَعَلَّ رَحْمَةَ رَبِّیْ حِيْنَ يَقْسِمُهَا
تَاْتِیْ عَلٰى حَسَبِ الْعِصْيَانِ فِی الْقِسَمٖ

شاید میرے رب کی رحمت جب تقسیم ہوگی تو وہ گناہوں کی مقدار کے مطابق تقسیم ہو۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 158 –

يَارَبِّ وَاجْعَلْ رَجَآئِیْ غَيْرَ مُنْعَكِسٍ
لَّدَيْكَ وَاجْعَلْ حِسَابِیْ غَيْرَ مُنْخَرِمٖ

اے پروردگار! میری امید کو تیرے ہاں نامراد نہ کرنا اور میرا حساب بگڑا ہوا نہ بنانا۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 159 –

وَالْطُفْ بِعَبْدِكَ فِی الدَّارَيْنِ اِنَّ لَهٗ
صَبْرًا مَّتٰى تَدْعُهُ الْاَهْوَالُ يَنْهَزِمٖ

اور اپنے بندے پر دونوں جہانوں میں لطف فرما، کیونکہ جب بھی اسے ہولناک چیزیں بلائیں، اس کا صبر ٹوٹ جاتا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 160 –

وَائْذَنْ لِّسُحْبِ صَلٰوةٍ مِّنْكَ دَآئِمَةً
عَلَى النَّبِیِّ بِمُنْهَلٍّ وَّمُنْسَجِمٖ

اور اجازت دے کہ تیری درود و سلام کی بارش ہمیشہ نبی ﷺ پر موسلادھار اور لگاتار برستی رہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 161

وَالْاٰلِ وَالصَّحْبِ ثُمَّ التَّابِعِيْنَ لَهُمْ
اَهْلِ التُّقٰى وَالنُّقٰى وَالْحِلْمِ وَالْكَرَمٖ

اور (یہ درود) آلِ نبی ﷺ پر، ان کے صحابہ پر، پھر ان کے تابعین پر ہو جو تقویٰ، پاکیزگی، بردباری اور سخاوت والے ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 162 –

مَا رَنَّحَتْ عَذَبَاتِ الْبَانِ رِيْحُ صَبًا
وَاَطْرَبَ الْعِيْسَ حَادِی الْعِيْسِ بِالنَّغَمٖ

جب تک صبا کی ہوا بان کے درخت کو جھولاتی رہے اور قافلے والے اپنی خوش الحان آواز سے اونٹوں کو وجد میں ڈالتے رہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 163 – 

ثُمَّ الرِّضَا عَنْ اَبِیْ بَكْرٍ وَّعَنْ عُمَرَ
وَعَنْ عَلِیٍّ وَّعَنْ عُثْمَانَ ذِی الْكَرَمٖ

پھر (درود و سلام ہو) ابو بکرؓ پر، عمرؓ پر، علیؓ پر اور عثمانؓ پر جو کرم والے ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 164 –

يَارَبِّ بِالْمُصْطَفٰی بَلِّغْ مَقَاصِدَنَا
وَاغْفِرْلَنَا مَامَضٰی يَاوَاسِعَ الْکَرَمٖ

اے رب! مصطفیٰ ﷺ کے وسیلے سے ہمارے مقاصد کو پورا فرما اور ہمارے گزرے ہوئے گناہ معاف فرما، اے وسیع کرم والے!

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 165 –

فَاغْفِرْ لِنَا شِدِهَا وَاغْفِرْ لِقَارِئِهَا
سَاَلْتُكَ الْخَيْرَ يَاذَاالْجُوْدِ وَالْكَرَمٖ

پس ان اشعار کے پڑھنے والے کو بھی بخش دے اور لکھنے والے کو بھی بخش دے۔ میں تجھ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اے سخاوت و کرم والے!

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 166

فَاغْفِرْ لِنَا شِدِهَا وَاغْفِرْ لِقَارِئِهَا
سَاَلْتُكَ الْخَيْرَ يَاذَاالْجُوْدِ وَالْكَرَمٖ

اے رب! ہم سب نے تجھ سے مغفرت اور حسنِ خاتمہ مانگا ہے، اے نعمتوں کو ابتدا دینے والے!

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 167

وَاغْفِرْ إِلٰھِیْ لِکُلِّ الْمُسْلِمِیْنَ بِمَا
یَتْلُوْہُ فِی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی وَفِی الْحَرَمِ

اور اے الٰہی! سب مسلمانوں کو بخش دے، ان کے سبب سے جو وہ مسجد اقصیٰ اور مسجد حرام میں تیری آیات پڑھتے ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 168

بِجَاهِ مَنْ بَیْتُهُ فِیْ طِیْبَةٍ حَرَمٌ
وَّإِسْمُهٗ قَسَمٌ مِّنْ أَعْظَمِ الْقَسَمِ

اس نبی ﷺ کے وسیلے سے، جن کا گھر مدینہ میں حرم ہے، اور جن کا نام اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی قسموں میں سے ایک ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 169 –

وَھٰذِهِ بُرْدَةُ الْمُخْتَارِ قَدْخُتِمَتْ
وَالْحَمْدُلِلّٰهِ فِیْ بَدْءٍ وَّفِیْ خَتَمِ

یہ مختار ﷺ کی بُردہ ختم ہوگئی، اور ابتدا سے انتہا تک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 170

أَبْیَاتُھَا قَدْأَتَتْ سِتِّیْنَ مَعْ مِائَةٍ
فَرِّجْ بِھَا کَرْبَنَا یَاوَاسِعَ الْکَرَمِ

اس کے اشعار ایک سو ساٹھ (160) پر پہنچے، ان کے وسیلے سے ہمارے غم دور فرما، اے وسیع کرم والے!

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

تمت قصيدة في مدح رسوله الكريم ﷺ

و الحمد لله تعالي

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے