قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

الفصل السادس

بابُ فِي شَرَفِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ

 قرآنِ کریم کی عظمت کا باب
موضوع: قرآنِ مجید کی فضیلت، معجزہ ہونا اور اس کی ہدایت و رہنمائی کا بیان۔

شعر 89 –

دَعْنِیْ وَوَصْفِیَ اٰيَاتٍ لَّهٗ ظَهَرَتْ
ظُهُوْرَ نَارِالْقِرٰى لَيْلًا عَلٰى عَلَمٖ

مجھے اُس (قرآن) کی آیات کی توصیف سے چھوڑ دے،
کیونکہ وہ تو اتنی روشن ہیں جیسے اندھیری رات میں پہاڑ پر روشن آگ نظر آتی ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 90

فَالدُّرُّ يَزْدَادُ حُسْنًا وَّهْوَ مُنْتَظِمٌ
وَّلَيْسَ يَنْقُصُ قَدْرًا غَيْرَ مُنْتَظِمٖ

جیسے موتی لڑی میں پروئے ہوں تو اور زیادہ حسین لگتے ہیں، اور اگر لڑی ٹوٹ بھی جائے تو بھی موتیوں کی قیمت میں کمی نہیں آتی۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 91

فَمَا تَطَاوُلُ اٰمَالُ الْمَدِيْحِ اِلٰى
مَا فِيْهِ مِنْ كَرَمِ الْاَخْلَاقِ وَالشِّيَمٖ

مدح و ثنا کی آرزوئیں کہاں پہنچ سکتی ہیں اُس کے اخلاقِ کریمہ اور خصائلِ حمیدہ کے مقام تک؟

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 92

اٰيَاتُ حَقٍّ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثَةٌ
قَدِيْمَةٌ صِفَةُالْمَوْصُوْفِ بِالْقِدَمٖ

قرآن کی آیات رحمان کی طرف سے نازل کردہ تازہ کلام ہیں، لیکن اُن میں اُس قدیم ذات (اللہ) کی صفات کا بیان ہے جو ازل سے ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 93

لَمْ تَقْتَرِنْ بِزَمَانٍ وَّهْیَ تُخْبِرُنَا
عَنِ الْمَعَادِ وَعَنْ عادٍ وَّعَنْ اِرَمٖ

یہ (قرآن) زمانے سے محدود نہیں، اور ہمیں قیامت، قومِ عاد اور ارم کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 94 –

دَامَتْ لَدَيْنَا فَفَاقَتْ كُلَّ مُعْجِزَةٍ
مِّنَ النَّبِيِّيْنَ اِذْ جَآءَتْ وَلَمْ تَدُمٖ

یہ ہمارے پاس ہمیشہ باقی ہے، اور ہر نبی کے معجزے پر غالب ہے، کیونکہ اُن کے معجزے وقتی تھے اور یہ ہمیشہ رہنے والا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 95 –

مُحْكَّمَاتٌ فَمَا یُبْقِيْنَ مِنْ شُبَهٍ
لِّذِیْ شِقَاقٍ وَّلَا یَبْغِيْنَ مِنْ حِكَمٖ

یہ (قرآنی آیات) ایسی پختہ دلیلیں ہیں جو کسی جھگڑالو کے لیے کوئی شبہ باقی نہیں چھوڑتیں، اور حکمتوں سے بھری ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر- 96 

مَا حُوْرِبَتْ قَطُّ اِلَّا عَادَ مِنْ حَرَبٍ
اَعْدَى الْاَعَادِیْٓ اِلَيْهَا مُلِقَی السَّلَمٖ

قرآن سے جب بھی کوئی معرکہ آرائی کی گئی، اس کے دشمن شکست کھا کر صلح و تسلیم کے ساتھ اس کے سامنے جھک گئے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 97 

رَدَّتْ بَلَاغَتُهَا دَعْوٰى مُعَارِضِهَا
رَدَّ الْغَيُورِ يَدَ الْجَانِیْ عَنِ الْحُرَمٖ

اس کی بلاغت نے ہر معترض کے دعوے کو ایسے لوٹا دیا جیسے غیرت مند آدمی کسی بدکار کو اپنے اہلِ حرم سے دور ہٹا دیتا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 98 –

لَهَا مَعَانٍ كَمَوْجِ الْبَحْرِ فِیْ مَدَدٍ
وَّفَوْقَ جَوْهَرِهٖ فِی الْحُسْنِ وَالْقِيَمٖ

اس کے معانی سمندر کی موجوں کی طرح بڑھتے چلے جاتے ہیں، اور حسن و قیمت میں موتیوں اور جواہرات سے بھی بڑھ کر ہیں۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 99 –

فَلَا تُعَدُّ وَلَا تُحْصٰى عَجَآئِبُهَا
وَلَا تُسَامُ عَلَى الاِكْثَارِ بِالسَّاَمٖ

اس کے عجائبات نہ گنے جا سکتے ہیں نہ شمار ہو سکتے ہیں، اور بار بار پڑھنے سے بھی انسان کبھی اُکتا نہیں سکتا۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 100 –

قَرَّتْ بِهَا عَيْنُ قَارِيْهَا فَقُلْتُ لَهٗ
لَقَدْ ظَفِـرْتَ بِحَبْلِ اللّٰهِ فَاعْتَصِمٖ

قاری اس (قرآن) کو پڑھ کر خوش ہو جاتا ہے تو میں اسے کہتا ہوں: تم نے اللہ کی رسی پا لی ہے، پس اس سے مضبوطی سے جڑ جاؤ۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 101

اِنْ تَتْلُهَا خِيْفَةً مِّنْ حَرِّ نَارِ لَظیٰ
اَطْفَاْتَ حَرَّ لَظٰی مِنْ وِّرْدِهَاالشَّبِمٖ

اگر تم اسے دوزخ کی آگ کے خوف سے پڑھو تو اس کا ٹھنڈا پانی اُس آگ کے شعلوں کو بجھا دیتا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 102

كَاَنَّهَاالْحَوْضُ تَبْيَضُّ الْوُجُوْهُ بِهٖ
مِنَ الْعُصَاةِ وَقَدْ جَآءُوْهُ كَالْحُمَمٖ

یہ قرآن ایسا ہے جیسے حوضِ کوثر، جس سے گنہگاروں کے چہرے سفید و روشن ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہ پہلے کالے کوئلوں جیسے تھے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 103

وَكَالصِّرَاطِ وَكَالْمِيْزَانِ مَعْدِلَةً
فَالْقِسْطُ مِنْ غَيْرِهَا فِی النَّاسِ لَمْ يَقُمٖ

یہ صراطِ مستقیم اور میزانِ عدل کی مانند ہے، اور اس کے علاوہ دنیا میں عدل قائم نہیں ہو سکتا۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 104

لَا تَعْجَبَنْ لِّحَسُوْدٍ رَّاحَ يُنْكِرُهَا
تَجَاهُلاً وَّهْوَ عَيْنُ الْحَاذِقِ الْفَهِمٖ

کسی حسد کرنے والے پر تعجب نہ کرو جو قرآن کا انکار کرتا ہے، حالانکہ وہ خود عقل مند اور سمجھ دار ہے، مگر محض ضد اور حسد سے انکار کرتا ہے۔

♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦♦

شعر 105

قَدْ تُنْكِرُالْعَيْنُ ضَوْءَ الشَّمْسِ مِنْ رَّمَدٍ
وَّيُنْكِرُ الْفَمُ طَعْمَ الْمَآءِ مِنْ سَقَمٖ

ایسا انکار ویسا ہی ہے جیسے آنکھ آشوبِ چشم کی وجہ سے سورج کی روشنی کو جھٹلا دے، یا بیماری کی وجہ سے زبان پانی کے ذائقے کا انکار کر دے۔

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے