قصيدة بردة البوصيري ۔ متن و ترجمہ

تعارف :

امام بوصیریؒ (608ھ/1212ء – 695ھ/1296ء) کا پورا نام شرف الدین محمد بن سعید البوصیری ہے۔ آپ مصر کے قصبے "بوصیر” میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے بوصیری کہلائے۔ ابتدائی تعلیم اپنے وطن میں حاصل کی اور بعد میں مصر کے علمی مراکز سے فیض اٹھایا۔ آپ فصیح و بلیغ شاعر، نعت گو، صوفی اور شافعی فقیہ تھے۔ عربی زبان و ادب پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی جس کی بنا پر آپ کے کلام کو ادب اور روحانیت دونوں میدانوں میں خاص مقام حاصل ہوا۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے سیرتِ نبوی ﷺ کو زندہ جاوید انداز میں پیش کیا اور عشقِ رسول ﷺ کے جذبات کو بڑی خوب صورتی کے ساتھ بیان کیا۔

ان کی سب سے مشہور تصنیف قصیدہ بردہ ہے، جو نبی اکرم ﷺ کی مدح میں لکھی گئی شہرۂ آفاق نعتیہ نظم ہے۔ یہ قصیدہ برصغیر، مصر، افریقہ اور عالمِ اسلام میں یکساں مقبول ہوا اور صدیوں سے مدارس، خانقاہوں اور مساجد میں پڑھا جاتا رہا ہے۔ روایات کے مطابق امام بوصیری شدید بیماری میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے یہ قصیدہ لکھا اور خواب میں نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک چادر ان پر ڈال دی، جس کے بعد ان کی صحت بحال ہوگئی۔ اسی وجہ سے اس کا نام "القصیدہ البردہ” رکھا گیا۔ امام بوصیری کا کلام عشق و عقیدت کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی تربیت کا بھی سرچشمہ ہے، اور آج تک آپ کو اسلامی نعتیہ ادب کے سب سے نمایاں شعراء میں شمار کیا جاتا ہے۔

امام بوصیریؒ محض شاعر ہی نہیں تھے بلکہ علمِ دین میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ آپ فقہ شافعی کے ماہر تھے اور قرآن و حدیث کے علوم سے بھی گہرا شغف رکھتے تھے۔ صوفیانہ ذوق کے اعتبار سے آپ کا تعلق شاذلیہ سلسلے سے تھا اور حضرت ابوالعباس مرسیؒ کے مرید تھے۔ آپ کی شخصیت میں عالم اور صوفی دونوں اوصاف جمع تھے، اسی لیے آپ کی شاعری میں محض فنی چمک دمک نہیں بلکہ دینی بصیرت اور روحانی تاثیر بھی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علما اور صوفیہ نے ان کے کلام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور قصیدہ بردہ کو محض ادبی شاہکار نہیں بلکہ ایمان و محبتِ رسول ﷺ کی علامت مانا۔ امام بوصیری کی علمی اور ادبی میراث آج بھی اسلامی دنیا میں علمی و روحانی تربیت کا سرچشمہ بنی ہوئی ہے۔

امام بوصیریؒ اپنی زندگی کے آخری حصے میں ایک شدید فالج کے مرض میں مبتلا ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے جسم کا ایک حصہ بالکل بے جان ہوگیا۔ اس سخت بیماری اور بے بسی کے عالم میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے طور پر قصیدہ لکھنا شروع کیا۔ وہ مسلسل حضور ﷺ کی مدح سرائی کرتے رہے اور اپنی عاجزی و کمزوری کا اعتراف کرتے ہوئے شفاعت اور رحمت کی التجا کرتے رہے۔ اسی کیفیت میں انہوں نے یہ شہرہ آفاق قصیدہ مکمل کیا، جو بعد میں "قصیدہ بردہ” کے نام سے معروف ہوا۔

قصیدہ لکھنے کے بعد امام بوصیریؒ ایک رات خواب میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ خواب میں انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ قصیدہ پڑھا۔ جب اشعار مکمل ہوئے تو سرورِ کائنات ﷺ نے اپنی مبارک چادر (بُردہ) آپ کے اوپر ڈال دی۔ اسی لمحے ان پر شفا نازل ہوئی اور صبح جب بیدار ہوئے تو وہ مرض جس نے انہیں مفلوج کر رکھا تھا، بالکل ختم ہوچکا تھا۔ یہ معجزہ دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے اور اس قصیدے کو "القصیدہ البُردہ” کہا جانے لگا۔

یہ واقعہ نہ صرف امام بوصیریؒ کی محبتِ رسول ﷺ کی سچائی کی دلیل ہے بلکہ اس قصیدے کی مقبولیت اور برکت کا بھی راز ہے۔ صدیوں سے یہ قصیدہ امتِ مسلمہ میں محبت، عقیدت اور روحانی سکون کا سرچشمہ ہے اور دنیا کے ہر کونے میں عقیدت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔

قصیدہ کے ابواب و فصول

 قصیدہ بردہ بارہ (12) ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب ایک خاص موضوع پر روشنی ڈالتا ہے اور مجموعی طور پر عشقِ رسول ﷺ، ایمان و اخلاق اور روحانی تربیت کا مکمل نصاب معلوم ہوتا ہے۔ ذیل میں ہر باب کا تعارف الگ پیراگراف میں پیش کیا جا رہا ہے:

باب اوّل: شکایۂ عشق و عذرتلافی

اس باب میں امام بوصیریؒ نے اپنی قلبی کیفیت اور عشقِ رسول ﷺ کے باعث پیدا ہونے والی بے قراری کو بیان کیا ہے۔ شاعر اپنے نفس کی کمزوری، خواہشاتِ نفسانی کے غلبے اور گناہوں کے بوجھ پر نادم ہو کر اللہ و رسول ﷺ کے حضور عذر خواہی کرتا ہے۔ گویا یہ باب نعت سے پہلے ایک طرح کی روحانی صفائی اور توبہ کی ابتداء ہے۔

باب دوم: نفس کی مذمت اور اس کی اصلاح

یہاں شاعر اپنے نفسِ امارہ کی شکایت کرتا ہے اور اس کے مکر و فریب کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ نفس انسان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف کھینچتا ہے اور اسے قابو میں لانے کے لیے مجاہدہ، عبادت اور اطاعت ضروری ہے۔ یہ حصہ دراصل تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کی تعلیم دیتا ہے۔

باب سوم: عشق و محبتِ رسول ﷺ

اس باب میں امام بوصیری نبی اکرم ﷺ کی محبت کا والہانہ اظہار کرتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ عشقِ رسول ﷺ ہی اصل ایمان ہے اور یہ محبت دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ شاعر دل کی گہرائیوں سے حضور ﷺ کی مدح و ثنا بیان کرتا ہے اور اپنی عقیدت کو نعتیہ اشعار میں سمیٹتا ہے۔

باب چہارم: میلادِ مصطفی ﷺ

اس حصے میں امام بوصیری ولادتِ مبارکہ کی برکتوں اور عظمتوں کا بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ آپ ﷺ کی آمد سے ظلمت ختم ہوئی اور دنیا نورِ ہدایت سے جگمگا اٹھی۔ یہ حصہ دراصل سیرتِ نبوی ﷺ کے آغاز کا حسین منظر پیش کرتا ہے۔

باب پنجم: معجزاتِ رسول ﷺ

یہ باب حضور اکرم ﷺ کے عظیم معجزات کا ذکر کرتا ہے۔ جیسے چاند کا شق ہونا، پانی کا چشمہ بن کر بہنا، درختوں اور جانوروں کا گواہی دینا وغیرہ۔ امام بوصیری ان معجزات کو بیان کر کے حضور ﷺ کی صداقت اور اللہ کے محبوب ہونے کو اجاگر کرتے ہیں۔

باب ششم: معراج النبی ﷺ

یہ باب معراج کے عظیم واقعے پر مشتمل ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ کو لامکاں کی بلندیوں تک لے جایا گیا۔ امام بوصیری اس معجزے کو نہ صرف حضور ﷺ کی عظمت کی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں بلکہ اسے انسانیت کے لیے روحانی بلندیوں کی علامت بھی قرار دیتے ہیں۔

باب ہفتم: جہاد و سیرتِ نبوی ﷺ

یہاں شاعر نے نبی کریم ﷺ کی شجاعت، جہاد میں ثابت قدمی اور دین کے غلبے کے لیے کی جانے والی جدوجہد کو بیان کیا ہے۔ بدر و اُحد کے واقعات اور حضور ﷺ کے مجاہدانہ کردار کا ذکر اس باب کا خاص حصہ ہے۔

باب ہشتم: قرآنِ کریم کی عظمت

اس باب میں امام بوصیری قرآن کو اللہ کی سب سے بڑی نعمت قرار دیتے ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ کتاب شفا، ہدایت اور نور ہے اور اس کے الفاظ و معانی میں معجزانہ شان ہے۔ قرآن ہی انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔

باب نہم: دعا و استغفار

یہ باب عاجزی اور گناہوں سے توبہ پر مشتمل ہے۔ شاعر اپنی خطاؤں کا اعتراف کر کے بارگاہِ الٰہی میں مغفرت کی درخواست کرتا ہے اور شفاعتِ رسول ﷺ کی امید لگاتا ہے۔ یہ حصہ انتہائی رقت آمیز اور روحانی کیفیت سے بھرپور ہے۔

باب دہم: شفاعتِ رسول ﷺ،مناجات و دعائیہ کلمات و نذرانۂ درود و سلام

اس حصے میں شاعر قیامت کے دن حضور ﷺ کی شفاعت کی امید کو بیان کرتا ہے۔ وہ اس بات پر یقین ظاہر کرتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت ہی امت کے لیے نجات کا ذریعہ بنے گی۔ اس امید نے پوری امت کو تسلی اور سکون عطا کیا۔امام بوصیری دعا کے انداز میں اللہ سے اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کے وسیلے سے رحمت و برکت طلب کرتے ہیں۔ یہ حصہ خشوع و خضوع اور اللہ کی طرف رجوع کی بہترین مثال ہے۔آخری باب درود و سلام پر مشتمل ہے۔ امام بوصیری نے حضور ﷺ پر درود و سلام بھیجتے ہوئے اپنی نعتیہ نظم کو مکمل کیا۔ یہ اختتامی حصہ نہ صرف ادبی حسن رکھتا ہے بلکہ روحانی طور پر ایک پاکیزہ دعا اور قلبی سکون کا ذریعہ ہے۔

اس قصیدہ مبارکہ کے چند اشعار الحاقی ہیں ، ان شاء اللہ عنقریب تشریحی نوٹس کا اضافہ کرتے ہوئے ان کی نشاندہی کر دی جائے گی۔ 

قصیدہ بردہ کامتن و ترجمہ اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے