Posted inتحقیقات سیرت مصادر سیرت
منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان
قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)( 1) فرما کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو ہمارے لیے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ قرآن حکیم اور صاحب قرآن کی سیرت کی مکمل حفاظت کا اہتمام اللہ تعالی کی طرف سے کیا گیا۔ قرآن حکیم کے پیغام کو سمجھنے کے لیے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس کے احکامات کی تفسیر و تشریح کے لیے، سنت اور سیرت طیبہ سے بڑھ کر کوئی اور رہنما نہیں ہو سکتا تھا۔لہذا سیرت نبوی ﷺ پر ہر وقت کے علماء نے کتب لکھیں اور اپنے اپنے زمانے کو سیرت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں دیکھااور ہدایت پائی اور اپنی خوش بختی اس بات میں سمجھی کہ انہیں سیرت پر قلم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی۔ چنانچہ دور صحابہؓ سے لے کر آج تک بیشمار کتب ہر دور میں لکھی گئیں۔اس کے علاوہ سیرت نگا ری میں عمل تکثیر کا تعلق قرآ ن پاک کے فر مان (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ)( 2)سے نہا یت قو ی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت چو نکہ ایمان کی علا مت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذ ر یعہ بھی ہے اس لیے بھی ہر دو ر کی طر ح اس دور میں بھی علما ء کی کو شش رہی کہ وہ سیرت کی زیا دہ سے ز یا دہ خدمت کر یں۔ اسکےعلاوہ دیگر اسباب نے ملکر دور حاضر میں سیرت نگاری کو نئی جہتوں اور رجحانات سے آشنا کیا۔