ابن العميدجرجس المكين ( 1273م) کی کتاب التاریخ کا باب سیرت

نام کتاب : تاريخ المسلمين ۔ من صاحب شريعة الاسلام ابي القاسم محمد(ﷺ) إلي الدولة الاتابكية ابتدائي معلومات مؤلف / مصنف :       ابن العميد، جرجس المكين ( 1273م) نوعيت :۔   مختصر باب سيرت طباعت:   ۔   ليدن كيفيت : ۔   مطبوع موجود ( دو نسخے) صفحات:   كل صفحات كتاب : …
مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبي ﷺ پر عربی کتب

مولد النبی ﷺ اسلامی تاریخ، سیرت نگاری اور دینی شعور کی اہم ترین روایات میں سے ہے۔ یہ وہ عظیم الشان موضوع ہے جس پر صدیوں سے عرب و عجم کے علماء نے اپنی محنتیں صرف کیں اور مختلف النوع کتب تصنیف کیں۔ عربی زبان میں مولد النبی ﷺ کے موضوع پر لکھی گئی کتب اپنی اصل ماخذی حیثیت، تاریخی گہرائی اور علمی جامعیت کے سبب غیر معمولی مقام رکھتی ہیں۔ یہ کتب نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے حالات و واقعات کو بیان کرتی ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی دینی، تہذیبی اور فکری تاریخ کا آئینہ بھی پیش کرتی ہیں۔علمی دنیا میں ببلوگرافی (Bibliography) اور جامع فہرستیں اس بات کو ممکن بناتی ہیں کہ محققین اور قارئین کسی موضوع پر لکھی جانے والی قدیم و جدید کتب تک منظم اور آسان رسائی حاصل کر سکیں۔ چنانچہ مولد النبی ﷺ پر عربی کتب کی یہ ببلوگرافی اور فہرست دراصل ایک ایسا علمی رہنما ہے جو اس موضوع کے سنجیدہ طالب علموں، محققین اور عام قارئین کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ اس میں وہ تمام بنیادی اور ثانوی ماخذ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو صدیوں کے علمی سرمایے کا حصہ ہیں۔یہ فہرست محض ایک حوالہ جاتی کام نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز بھی ہے، جو سیرت النبی ﷺ کے اس پہلو پر اسلامی تہذیب کی فکری اور روحانی جستجو کی جھلک دکھاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ کوشش محققین کے لیے تحقیق و مطالعہ کی نئی راہیں کھولے گی اور قارئین کو مولد النبی ﷺ کی روایت سے قریب تر لے جائے گی۔
 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

 برصغیر میں سیرت نگاری کے جدیدرجحانات کے اسباب و عوامل اور اثرات

تاریخ سیرت کے مطالعہ میں ان محرکات و عوامل کا مطالعہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، جن کی وجہ سے سیرت نگاری کے مختلف رحجانات جنم لیتے ہیں یا کسی خاص دور میں مقبولیت حاصل کر کے اس فن کی روایت کو کوئی خاص سمت عطا کرتے ہیں۔برصغیر میں سیرت نگاری کی تاریخ کی بہتر تفہیم کے لیے یہ ضروری اور مفید معلوم ہوتا ہے کہ خاص دور جدید کے تناظر میں دیکھا جائے کہ مختلف جدید رحجانات کے اسباب و محرکات کیا ہیں۔ یہ مطالعہ اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں پچھلی دو صدیوں میں سیرت طیبہ کا وقیع ادب وجود میں آیا جو کیفیت و کمیت میں اس عرصہ میں عربی سمیت تمام زبانوں کے ادب سیرت پر فائق ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ علامہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کی سیرت النبی جیسی معیاری اور تحقیقی کتاب عربی میں نہیں لکھی گئی۔ اسی عرصہ کے دوران سیرت نگاری کے بعض نئے رجحانات سامنے آئے، جن میں سے بعض رجحانات مختلف عوامل کی وجہ سے سامنے آئے۔ اس مقالہ میں بر صغیر کے لحاظ سے خصوصی اسباب و عوامل کا تجزیاتی مطالعہ کیا جانا مقصود ہے۔ سیرت نگاری یا دیگر علوم میں کوئی بھی رجحان عموما جن صورتوں میں ظاہر ہوتا ہےان میں مواد کا انتخاب، مواد کے مآخذ، مواد کی پیشکش کا منہج و اسلوب ، شخصی و قومی اعتقادات و تصورات کی تصویر گری اورعلم کے ابلاغ میں زمانے کی مخصوص تکنیکی سہولیات سے استفادہ کے طریقوں کو شامل کیا جا سکتا ہے ۔ ذیل میں برصغیر کی اردو سیرت نگاری کے تناظر میں اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیرت نگاری کے متنوع جدید رجحانات کن اسباب و عوامل کے تابع جنم لے کر مقبول ہوئے ۔
اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

اسلامی ریاست میں نظم و ضبط کے اصول اور تعلیمات نبوی ﷺ

انسان مدنی الطبع ہے( [mfn] علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں :"أنّ الاجتماع الإنسانيّ ضروريّ ويعبّر الحكماء عن هذا بقولهم الإنسان مدنيّ بالطّبع " ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد ،ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر، ، المحقق: خليل شحادة،دار الفكر، بيروت،الطبعة: الثانية، 1408 هـ - 1988 م،( ج 1/ ص 54 )[/mfn])۔ وہ دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ سب انسانوں کی ضروریات مشترکہ ہیں جو ایک دوسرے سے پوری ہوتی ہیں۔ دوسروں کی مدد سے ہی انسان بھوک ،بیماری، موسموں کی شدت ، خوف اور دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس کی انفرادی زندگی اجتماعیت کے ایک وسیع نظام کا حصہ ہے، جو حقوق و فرائض کے ضابطوں سے تشکیل پاتا ہے۔یہی ضابطے اس کے تحفظ، اس کی بقاء اور اس کی نسل کی ترقی کے ضامن ہیں۔ فرد کا حق، اجتماع کا فرض اور اجتماع کا حق، فرد کا فرض ہے۔ انسانی حیات کی بقاء و سلامتی اور اس کرہ ارض کا امن اس بات پر منحصر ہے کہ  ایک انسان دوسروں کے حقوق کا خیال رکھےاور اپنے فرائض سے غفلت نہ برتے، اس کے بدلے لوگ اس کے حقوق کا خیال رکھیں اور یوں زندگی اپنے نظم سے مزین ہو ، جو حسن حیات کا مطلوب و مقصود ہے۔
منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

منہج حرکی:سیرت نگاری کا جدید رجحان

قرآن حکیم میں اللہ تعالی نے( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)( 1) فرما کر رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کو ہمارے لیے نمونہ عمل قرار دیا ہے۔ قرآن حکیم اور صاحب قرآن کی سیرت کی مکمل حفاظت کا اہتمام اللہ تعالی کی طرف سے کیا گیا۔ قرآن حکیم کے پیغام کو سمجھنے کے لیے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اس کے احکامات کی تفسیر و تشریح کے لیے، سنت اور سیرت طیبہ سے بڑھ کر کوئی اور رہنما نہیں ہو سکتا تھا۔لہذا سیرت نبوی ﷺ پر ہر وقت کے علماء نے کتب لکھیں اور اپنے اپنے زمانے کو سیرت رسول اللہ ﷺ کی روشنی میں دیکھااور ہدایت پائی اور اپنی خوش بختی اس بات میں سمجھی کہ انہیں سیرت پر قلم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوئی۔ چنانچہ دور صحابہؓ سے لے کر آج تک بیشمار کتب ہر دور میں لکھی گئیں۔اس کے علاوہ سیرت نگا ری میں عمل تکثیر کا تعلق قرآ ن پاک کے فر مان (وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ)( 2)سے نہا یت قو ی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی محبت چو نکہ ایمان کی علا مت اور اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کا ذ ر یعہ بھی ہے اس لیے بھی ہر دو ر کی طر ح اس دور میں بھی علما ء کی کو شش رہی کہ وہ سیرت کی زیا دہ سے ز یا دہ خدمت کر یں۔ اسکےعلاوہ دیگر اسباب نے ملکر دور حاضر میں سیرت نگاری کو نئی جہتوں اور رجحانات سے آشنا کیا۔