ابن العميدجرجس المكين ( 1273م) کی کتاب التاریخ کا باب سیرت

نام کتاب : تاريخ المسلمين ۔ من صاحب شريعة الاسلام ابي القاسم محمد(ﷺ) إلي الدولة الاتابكية

ابتدائي معلومات

مؤلف / مصنف :       ابن العميد، جرجس المكين ( 1273م)
نوعيت :۔   مختصر باب سيرت
طباعت:   ۔   ليدن
كيفيت : ۔   مطبوع موجود ( دو نسخے)
صفحات:   كل صفحات كتاب :  360 ، باب سيرت : 10 صفحات (ص 20 ۔ 30)

توضيحى نوٹ: 

   تاریخ المسلمین مکین جرجس بن العمید  1273 م  کی تالیف  ہے ،جس کے شروع میں مختصر سیرت ہے۔یہ کتاب عربی متن اور لاطینی ترجمہ کے ساتھ مطبوع ہے۔  ابن العمید دوسری مسیحی تھا اور سلطان الصالح ایوب کا ہم عصر اور دیوان الجیش کا کاتب تھا ۔  یہ کتاب  Islaic Heritage Project[1]   ہاورڈ یونیورسٹی  کے ذخیرہ میں موجود ہے اور اسی طرح  Early Arabic Printed Books : Yale University library From British[2] Library   میں بھی موجود ہے اور   National Central Library of Rome [3]میں بھی موجود ہے۔

تعارف مؤلف

عبد الله جرجس بن ابي ياسر جو مختصر نام ابن العميدیاجرجيس بن العميد یا  ” المكين جرجس بن العميد  کے نام سے جانا جاتا ہے، مسیحی مؤرخ اورمصری افواج کا كاتب الجیش تھا۔ اس کا زمانہ عصر أيوبى اور مملوكى پر محیط ہے۔ وہ مصرمیں پیدا ہوا اور دمشق میں فوت ہوا۔اس کی متعدد کتب ہیں، جن میں سے تاريخ المسلمين  کا حصہ سیرت مقالہ میں زیر بحث ہے۔

مقدمہ کتاب

ابن العمید نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ امام ابی جعفر محمد بن جریر الطبری كي تاریخ عالم میں واقعات کي شرح ، اسناد اور اسباب کے سلسلے میں بہت طوالت پائی جاتی ہے، لہذا انہوں نے امام کمال الدین الارمني کے منتخب اور دیگر مختصرات سے استفادہ کیا اور مختصر طور پر تاریخ مرتب کی اور اس اختصار میں مشہور واقعات اور حوادث کوحذف نہیں ہونے دیا۔ ابتدا صاحب شریعت اسلام حضرت محمد علیہ الصلاۃ والسلام کے ذکر ولادت، نسب، ہجرت، غزوات ،فتوحات اور ان (ﷺ) کے انتقال تک کے واقعات سے کی ہے اور پھر خلفائے راشدین اور دیگر سلاطین کا اپنے زمانے کے ترتیب سے ذکر کیا ہے اورملک سلطان الملک الطاہررکن الدین بیبرس تک کے حالات شامل کیے ہیں۔

موضوعات کتاب

کتاب تاریخ المسلمین ، جو 360 صفحات پر جرمن ترجمے کے ساتھ مطبوع ہے، کے صفحہ نمبر بیس سے انتیس(20۔29) تک  نو(9) صفحات پر مشتمل سیرت کا مختصر بیان ہے۔ جس کی ابتدا امام محمد بن جریر الطبری کی روایت سے ہوتی ہے۔ اس میں درج ذیل موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مکی زندگی

رسول اللہ ﷺ کا جناب عبدمناف تک مختصرنسب ،والدہ ماجدہ کا نسب،8 ربیع الاول کومکہ مکرمہ  میں ولادت جو کہ 20 اپریل 882 سکندر ذوالقرنین  رومی مہینوں کے حساب سے ہے۔ قبل ولادت حضرت والد کی وفات،چھ سال میں والدہ  ماجدہ کی وفات،آٹھ سال میں دادا محترم کی وفات،چچا محترم کی کفالت،چالیس سال کی عمر میں دو ربیع الاول کو نبوت ملی، اولین مسلمانوں کا ذکر۔چوالیس(44) سال کی عمر شریف میں دعوت کا اعلان،عیسائیوں کا آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر بیعت اور امان حاصل کرنا ، قریش کی عداوت کا ذکر ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا  اسلام، مقاطع کا صحیفہ،جناب ابو طالب کا نبوت کے دسویں سال میں اپنی قوم کے دین پر انتقال،طائف کا سفر،12 نبوی میں معراج،نبوت کے تیرھویں سال اوس و خزرج کا بیعت کرنا، مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کا مدینہ کی طرف ہجرت کرنا،پیر کے دن مدینہ میں داخلہ اورحضرت ابو ایوب؄ کے پاس قیام ،مسجد اور گھروں کی تعمیر اور سن ہجری کی ابتدا کے موضوعات  شامل ہیں۔

مدنی زندگی

ہجرت  کا پہلا سال: حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی شادی، سریہ حضرت  حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
دو ہجری : میں بدر الاولی ،بدرالکبری  اور دیگر غزوات۔
تین ہجری : یہود کا محاصرہ اور ان کی جلاوطنی،کعب بن اشرف کا قتل،غزوہ احد۔
چار ہجری : غزوہ بنی نضیر ،غزوہ بئر معونہ ،غزوہ بدر الموعد۔
پانچ ہجری : غزوہ خندق،حضرت نعیم بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کارنامہ،خندق کےقتلی کی تعداد، بنی قریظہ کا انجام ،صلوۃ الاستسقاء ،غزوہ بنی المصطلق ، حدیبیہ کا معاہدہ۔
سات ہجری : مسجد میں منبر کا رکھنا، غزوہ خیبر ، یہود کے ساتھ معاہدہ اور ان کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک خیبر میں رہنا یہود کا آپ ﷺ کے کھانے میں زہر ملا نا۔
8 ہجری : میں فتح مکہ کے واقعات، غزوہ حنین، طائف کا محاصرہ۔
9  ہجری  : غزوہ تبوک، اہل طائف کا اسلام لانا، لات کی مورتی کو توڑنا۔
10 ہجری : وفود کا آنا،مسیلمہ کذاب کا ظہور،حجۃ الوداع، اسود عنسی کا ظہور، اور اسی سال آپ ﷺ کا وصال ۔

دیگر فصول

رسول اللہ ﷺ کے اخلاق،رسول اللہ ﷺ کے کاتبین اور ان کے فرائض،آپ کے قاضی، دربان، مؤذن، عمال، رسول اللہ ﷺ کی ولادت کی تاریخ کا شمسی تاریخ کے ساتھ موازنہ اور حضرت آدم علیہ السلام سے اس کی تعیین شامل ہے۔ سیرت کے مذکورہ بالا موضوعات کو دس صفحات میں مختصر کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نصاریٰ کے ساتھ خیر خواہی اور ان کے اچھے احوال کا ذکر کیا گیا ہے۔

نئی معلومات/ انفرادی دلچسپی

  1. مؤلف نے اسلام کی دعوت کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے "چالیس سال کی عمر میں دعوت کا اعلان ،جس میں اللہ  کی عبادت اور شرک سے اجتناب، روزے ، پانچ نمازیں، زکوۃ اور حج کی فرضیت اور خون ، مردار اور خنزیر کے کھانے سے منع کرنا اور جو كوئي ان باتوں سے روکے، اس کے ساتھ جنگ کرناشامل تھا”۔
  2. آپ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر عیسائیوں کا بیعت کرنا اور آپ ﷺ کا عیسائیوں ، یہود، مجوس اور صابیوں کے لیے، امان دینا کہ وہ جزیہ اور خراج دیں گےاور مسلمانوں کو حکم دینا کہ وہ سابقہ انبیاء اور رسل علیہم السلام کی تصدیق کریں اور مسیح ابن مریم علیہ السلام کو روح اللہ اور کلمہ کہنا، انجیل اور تورات کی تصدیق  کرنے کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔
  3. جنگ خندق میں شہداء کی تعداد چھ( 6)اور مشرکین کے تین(3) مقتول لکھے ہیں، غزوہ حنین میں مسلمانوں کے چار افراد شہید ہوئےاور بنی ثقیف کے 90 افراد قتل ہوئے [4]۔
  4. اولین مسلمانوں میں ترتیب کے سلسلہ میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا، حضرت زیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ،  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعوت پر بقیہ لوگوں کا اسلام لانا بیان کیا ہے ۔
  5. حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا حق مہر،ان کی قوم کے افراد کی آزادی کو قرار دیا ہے[5]۔
  6. رسول اللہ ﷺکے منبر کے بارے میں اضافی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کے بنانے والے کا نام، لکڑی کی قسم اور یہ کہ اس کی بیٹھنے کی جگہ کے علاوہ دو سیڑھیاں تھيں اور یہ کہ منبر اسی حال میں رہا تا آنکہ حضرت معاویہ ؓبن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنھمانےاس میں 6 درجوں کا اضافہ کیا اور یہ کہ سب سے پہلے اس پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس پرکپڑا چڑھایا[6]۔
  7. رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سترہ نماز پڑھائی ہیں[7]۔
  8. رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی کا نقش شہادتین تھا[8]۔

اہم نکات

 جملہ ہائے معترضہ کے طور پر کچھ ایسي باتوں کا بیان بھی کیا ہے ،جو مسلمانوں کے مختلف مذاهب كے درمیان  اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان محل اختلاف ہیں۔

  1. خنزیر کو حرام قرار دینے اور جہاد کی علت اور توجیہ کا ذکرکرنا[9] ۔
  2. بدر کے واقعہ کی اسباب میں خاص طور پر ابو سفیان کے قافلے پر حملہ آور ہونے کو جنگ کی وجہ قرار دینا[10]۔
  3. جناب ابو طالب کا اپنی قوم کے دین پر انتقال بیان کیا ہے۔
  4. ابن العمید نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے دور حکومت کے درمیان میں جب یہ پتا چلا  کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرض وفات میں جزیرہ عرب میں دو دینوں کے اکٹھے نہ ہونے دینے کا حکم دیا تھا ،تو انہوں نے خیبر والوں کو جلا وطن کر دیا [11]۔
  5. وقائع و حوادث کے لیے ہجری تقویم کے ساتھ دیگر تقویموں کا استعمال مثلا ولا دت نبوی  ﷺکی تاریخ کے تعین میں سکندر ذوالقرنین کی تقویم شمسی کا حوالہ دینا[12]۔ اسی طرح وصال اطہر کی تاریخ میں شمسی تقویم کی مدد سے حضرت آدم علیہ السلام سے زمانی بعد کا تعین کیا ہے[13]۔
  6. اکثر جگہ پر ناموں کو غلط ضبط کیا گیا ہے۔مثلا یوسف بن حارث کو خندق کے دن قریش کا سردارلکھا ہے۔اسی طرح حيي بن اخطب کو حبیب بن اخطب لکھا ہے۔اہل القریٰ کو اہل بدر لکھا ہے ،عتاب بن اسید کو غیات بن اسد لکھا ہے ، اسود العنسی کو اسود العبسی لکھا ہے، عبداللہ بن ابی سرح کو ابی شرح لکھا ہے[14]۔ 

خلاصہ کلام

مسیحی مؤلف ابن العمید نے اپنی  کتاب تاریخ المسلمین کی ابتدا میں سیرت کا مختصر باب قائم کیا ، جس میں مؤلف  نے رسول اللہ ﷺ مکی اور مدنی زندگی کے اکثر احوال کو شامل کیا۔ مکی زندگی کے لیے موضوعاتی اور مدنی زندگی کے لیے سنین کی ترتیب اختیار کی ہے،  نیز متعلقات سیرت کی فصول بھی کتاب کا حصہ ہیں۔  اس باب کا بنیادی ماخذ علامہ ابن جریر الطبری کی تاریخ ہے۔ اس مختصر حصہ سیرت میں مؤلف نے عیسائی نقطہ نظر کے مطابق کچھ خاص چیزوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکمران وقت اور عامۃ المسلمین کو مطمئن کرنے کے لئے اسلامی دعوت کے اصولوں اور عیسائیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے حسن سلوک کو خاص طور پر اجاگر کیا ہے اور کچھ اضافی معلومات بھی فراہم کی ہیں۔ مجموعی طور پر ابن العمید کا یہ باب سیرت مفید اور قرون وسطی ٰ کےعیسائی نقطہ نظر کو جاننے کا اہم ذریعہ ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذيل ميں قناة البصاص الوثائقية للتاريخ کی اس کتاب کے تعارف پر ایک مفید پوسٹ کا ترجمہ بھی پیش خدمت ہے ، جس میں اس کتاب کے بارے میں کچھ مزید معلومات ملتی ہیں۔ 

آپ کے سامنے ایک نادر کتاب کا تعارف پیش ہے، جو 1625ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کو ہالینڈ کے مشہور مستشرق توماس إربینوس نے نشر کیا۔ کتاب کا عنوان تھا:

’’تاریخُ المسلمین مِن صاحبِ شریعةِ الإسلام أبی القاسم محمد إلی الدولة الأتابکیة‘‘

اس میں ہر صفحے پر عربی متن کے بالمقابل لاطینی ترجمہ درج تھا۔ اصل کتاب کے مصنف شیخ المکین جرجس بن العمید ابو الیسر بن ابی المکارم بن ابی الطیب تھے۔

علامہ توماس إربینوس نے اس کتاب کا عربی متن کے ساتھ لاطینی زبان میں ترجمہ کیا اور پھر اسے 1625ء میں لندن سے شائع کیا۔ بعد ازاں اس کتاب کے متعدد یورپی زبانوں میں تراجم ہوئے۔ چنانچہ:

  • بورشاز نے 1626ء میں اس کا انگریزی ترجمہ کیا۔
  • پیئر فانییہ نے اس کا فرانسیسی ترجمہ کیا۔
  • اسی طرح اس کا ایک حبشی (ایتھوپیائی) ترجمہ بھی موجود ہے، جو آکسفورڈ لائبریری کے ایتھوپیائی شعبہ میں نمبر 28 اور 29 کے تحت محفوظ ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مؤرخ المفضل بن أبي الفضائل نے بعد میں اس کام کو آگے بڑھایا اور ایک کتاب تصنیف کی جس کا نام تھا:

النهج السديد والدر الفريد فيما بعد تاريخ بن العميد

اس میں انہوں نے سلطان الملک الظاہر سے لے کر سلطان الناصر بن قلاوون کے دور تک، یعنی تقریباً 1260ء سے 1341ء تک کے حالات قلم بند کیے۔

بعد کے زمانے میں امریکہ کی Ohio University کے ڈاکٹر علی بکر حسن نے ابن العمید کی اس کتاب کی تحقیق و تدوین کی اور اسے 2010ء میں قاہرہ سے اس عنوان کے تحت شائع کیا:

تاريخ المكين؛ تاريخ المسلمين من صاحب شريعة الإسلام أبي القاسم محمد حتى الدولة الأتابكية

کاردینل تیسران (1884ء ــ 1972ء) اور اسلامی تاریخ و آثار کے ماہر جاستون فييت بیان کرتے ہیں کہ القلقشندي نے اپنی مشہور انسائیکلوپیڈیا "صبح الأعشى” میں قبطیوں سے متعلق حصہ لکھتے وقت ابن المکین کی کتاب سے بہت زیادہ استفادہ کیا۔ اسی طرح علامہ المقريزي نے بھی اپنی عظیم تصنیف "المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار” کے قبطیوں سے متعلق حصے میں اس کتاب پر اعتماد کیا۔

جرجس بن العمید کا تعارف

جرجس بن العمید تیرہویں صدی میں قبطی کلیسا کے مشہور ترین علماء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا مکمل نام:"جرجس بن أبي الیاسر بن أبي الطیب، المعروف بالشيخ المكين بن العميد” تھا۔ ان کا خاندان عراقی النسل تھا۔ ان کے دادا تکریت کے ایک تاجر تھے، جو فاطمی خلیفہ الآمر باللہ (1101ء ــ 1131ء) کے زمانے میں مصر آئے۔ انہوں نے خلیفہ کو قیمتی تحائف پیش کیے، جن سے خلیفہ بہت خوش ہوا اور انہیں مستقل طور پر مصر میں قیام کی دعوت دی۔ ساتھ ہی ’’منیة سمنود‘‘ کے علاقے کا ایک گاؤں ان اور ان کی اولاد کے لیے عطا کیا۔ جرجس کے والد نے 45 سال تک دیوانِ حربیہ (فوجی دفتر) میں خدمات انجام دیں۔ اسی علمی و معزز خاندان میں تقریباً 1207ء میں جرجس بن العمید پیدا ہوئے۔

انہوں نے تاریخ، جغرافیہ، فلکیات، منطق اور علمِ بیان سمیت مختلف علوم میں مہارت حاصل کی۔ عربی، قبطی اور یونانی زبانوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ بعد میں اپنے والد کے بعد دیوانِ حربیہ میں ذمہ داری سنبھالی۔ زندگی کے آخری ایام میں دمشق منتقل ہوگئے، جہاں 1274ء میں ان کا انتقال ہوا۔

ناشرِ کتاب: توماس إربینوس

توماس إربینوس ایک مشہور ڈچ مستشرق تھے، جنہیں ہالینڈ میں استشراقی بیداری کا بانی اور منظم سمجھا جاتا ہے۔ان کی پیدائش ہالینڈ کے شہر گورکم (Gorkum) میں ہوئی۔ انہوں نے لیدن میں تعلیم حاصل کی اور 1608ء میں Leiden University سے ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ وہاں انہوں نے مشرقی زبانوں کا مطالعہ کیا۔بعد ازاں وہ انگلستان، فرانس، اٹلی اور جرمنی کے سفر پر گئے۔فرانس میں قیام کے دوران انہوں نے ایک مصری عالم، یوسف بربطوس المعروف ’’ابو ذقن‘‘ سے عربی سیکھی۔ پھر وینس میں ترکی زبان سیکھی، اور ساتھ ہی فارسی اور حبشی زبانوں میں بھی مہارت حاصل کی۔طویل اسفار کے بعد 1612ء میں اپنے وطن واپس آئے، اور فروری 1613ء میں Leiden University میں عربی اور دیگر مشرقی زبانوں (عبرانی کے علاوہ) کے پروفیسر مقرر ہوئے۔انہوں نے اپنے گھر میں ایک عربی مطبع قائم کیا، جو بعد میں لیدن کی مشہور بریل (Brill) پریس کی بنیاد بنا۔انہوں نے عربی قواعد کی تعلیم ایک مورِسکی عالم ’’أفوقاي‘‘ سے حاصل کی، جن کے ساتھ فرانسیسی مستشرق اور طبیب إتيان هوبير بھی تھے۔1619ء میں انہیں جامعہ کے شعبۂ عبرانی زبان میں بھی منصب پیش کیا گیا۔ اسی طرح انہیں اسلامی ممالک اور افریقی ریاستوں سے آنے والے خطوط کے ترجمے کے لیے سرکاری مترجم بھی مقرر کیا گیا۔ان کی تصانیف اور علمی خدمات میں شامل ہیں:

  • قواعد اللغة العربية
  • منتخبات من شعر الحماسة لأبي تمام
  • تاريخ المسلمين ۔ابن العمید کی تاریخ کا حصہ، لاطینی ترجمے کے ساتھ
  • أمثال لقمان

ان کے شاگردوں میں ياكب يوليوس نمایاں ہیں، جنہوں نے بعد میں لیدن یونیورسٹی میں عربی زبان کی تدریس میں ان کی جانشینی کی۔1613ء میں انہوں نے لاطینی زبان میں عربی نحو پر ایک کتاب شائع کی، جسے 1620ء اور 1621ء میں دوبارہ طبع کیا گیا۔ پھر 1771ء میں میخائیلیس نے اس کا جرمن ترجمہ کیا۔إربینوس نے 1617ء میں روم سے عبد القاهر الجرجاني کے ایک علمی کام کو بھی شائع کیا۔آخرکار ان کا انتقال لیدن میں ہوا۔

ابن العمید المکین کی کتاب التاریخ کالنک : 1  کلک کریں

ابن العمید المکین کی کتاب التاریخ کالنک : 2   کلک کریں

حوالہ جات

[1] . https://curiosity.lib.harvard.edu/islamic-heritage-project/catalog

[2]  https://gdc.galegroup.com/gdc/artemis/MonographsDetailsPage/

[3]. https://archive.org/details/bub_gb_gXT4YnwbyZEC/page/n4   Dated 22 July 2019..

[4] ۔ ابن العميد، المكين جرجس 1273م، تاريخ المسلمين ۔ من صاحب شريعة الاسلام ابي القاسم محمد(ﷺ) إلي الدولة الاتابكية، IOHANNEM MAIRE, &ElZEVIRIOS ،Brittenburg Leiden، 1625، ص 26

[5] ۔ ابن العميد،  تاريخ المسلمين ،ص24

[6] ۔  نفس مصدر،ص 25

[7] ۔ ابن العميد،  تاريخ المسلمين ،ص28

[8] ۔ نفس مصدر،ص28

[9] ۔ نفس مصدر،ص 21

[10] ۔  نفس مصدر،ص 23

[11] ۔ نفس مصدر،ص 26

[12] ۔ نفس مصدر،ص 20

[13] ۔ نفس مصدر،ص 30

[14] ۔ ابن العميد،  تاريخ المسلمين ، بالترتيب ص 24، 25، 27، 28۔

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے