ابن العبری (مسیحی مصنف) کی کتاب تاریخ مختصر الدول کاباب سیرت

کتاب کا تعارف

ابن العبری  غريغوريوس نے تاريخ پراپنی كتاب تاريخ مختصر الدول  دس سلطنتوں کی تاریخ کے طور پر  دس  أبواب میں تقسیم کی ہے، جنہیں   اللہ تعالیٰ نے یکے بعد دیگرے اقتدار بخشا۔ اس کتاب تاریخ کے نویں باب  “ الدولة التاسعة: الدولة المنتقلة من ملوك اليونانيين المتنصرين الى ملوك العرب المسلمين “ جو کہ مسلمانوں کی تاریخ پر مشتمل ہے۔  اس حصہ  كي ابتدا میں نبی پاک ﷺ کے مختصر حالات بیان کئے گئے ہیں۔ یہ باب سیرت طیبہ  کے ضمن میں  مشرقی عیسائیت کے نقطہ نظر کا ایک قدیم ماخذ اور مصدر ہے۔ دار الشرق، بيروت سےشائع شدنسخہ پیش نظر ہے ، جس کے پانچ صفحات سیرت پر ہیں۔  کتاب کی ابتدائی معلومات درج ذیل ہیں:

مؤلف / مصنف : غريغوريوس (اسمه في الولادة يوحنا) ابن أهرون (أو هارون) بن توما الملطي، أبو الفرج المعروف بابن العبري (685ھ)
نوعيت :۔   مختصر باب سيرت
حوالہ :                 المكتبة الشرقية    [1]
طباعت:   ۔  دار الشرق بيروت1992 م ، دار الرائد اللبناني1994م۔
كيفيت : ۔   مطبوع موجود[2]
صفحات:   كل صفحات كتاب :  299 ، باب سيرت : 5 صفحات (ص 94 ۔ 98)

توضيحى نوٹ:۔   ابن العبري كي تاريخ پر كتاب تاريخ مختصر الدول پہلی بار 1663 میں عربی اور لاطینی مشترکہ متن آکسفورڈ سے پوكاك نے طبع کروایا ، جواب ناپید ہے۔البتہ 1783 میں شائع ہونے والا اس کا جرمن ترجمہ موجود ہے۔ اس کے نسخے آکسفورڈ برٹش میوزیم اور قومی مکتبہ پیرس میں موجود ہیں۔  ابن العبری کی تاریخ مختصر الدول کا دار الشرق، بيروت سے  1992 م کا مطبوعہ نسخہ جو مکتبہ شاملہ میں موجود ہے ، مقدمہ اور تعارف مولف سمیت 299 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا دوسرا نسخہ دار الرائد اللبنانی کا 1994 کا مطبوعہ ہے ،جو 627 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب  دراصل ابن العبری کی سریانی میں لکھی ہوئی تاریخ عالم ہے، جو کہ ابتدائی تخلیق سے لیکر ابن العبری کے زمانے تک کی مفصل تاریخ ہے، اور لاطینی میں چھپ چکی ہے([3]) ، جس کا انگریزی ترجمہ( [4]) بھی E. A. Wallis Budge  نے کیا  جو آکسفورڈ سے مطبوع ہے۔ ابن العبری نے اپنی اس مفصل سریانی تاریخ سے تلخیص کر کے اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل عربی میں تاریخ مختصر الدول لکھی ۔مصنف نے سریانی تاریخ میں سیرت النبی ﷺ اور خلفاء راشدین پر ناروا حملے کیے اور رسول اللہ ﷺ پر اور خلفاء پر شدید تنقید کی لیکن مسلمان چونکہ سریانی سے ناواقف تھے لہذا انہیں  اس مصنف کے گستاخانہ الفاظ و تصورات سے واقفیت نہ ہو سکی۔ بعد ازاں جب مصنف سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسے عربی میں منتقل کریں تو اس نے اس عربي ترجمه سے وہ ناروا باتیں حذف کر دیں ([5])۔ ہمیں اصل سریانی متن تک رسائی نہیں ہو سکی۔ 

مؤلف کا مختصر تعارف

ابن العِبری کا اصل نام گریگوریوس یوحنا ابو الفرج بن اھرون بن توما ہے،جو پادري مورخ اور طبیب تھا۔  1226 عیسوی میں ملطیہ ، (ا ٓرمینیا صغری )میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ طبیب اور صاحب حیثیت شخص تھا۔ ابن العبري میں ذكاوت فہم اور علم کی طلب نے اسے یونانی سریانی اور عربی علوم اور فلسفہ اور طب میں مہارت عطا کی۔ 1243م  میں ملطيه  کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے  اس کے والد نے انطاکیہ کی طرف ہجرت کی ۔ وہاں ابن العبری نے علم میں کمال پیدا کیا ۔ اس کی شہرت پھیلی تو بطریرک اغناطيوس اس سے ملنے آیا۔ بعد میں ابن العبری نے طرابلس کی طرف ہجرت کی اور نسطوري علماء سے بيان اور طب کی تعلیم حاصل کی ۔ بطریرک اغناطيوس نے اسے  1246 م  میں عكا کے گرجا کا پادری مقرر کیا۔ پھر اسے "لاقبين ”  كے گرجا میں بھیجا ،جہاں وہ سات سال تک  انتظام چلاتا رہا۔ اس کے بعد وہ حلب میں منتقل ہو گیا ۔ جب 1258  م  میں ہلاکو خان نے بغداد کو تباہ کیا ،تو عراق و شام میں  بھی تباہی اور بربادی پھیل گئی ۔ منگول حلب کی طرف بڑھے تو ابن العبری نے ہلاکو خان سے  عوام پر رحم کرنے کی اپیل کی، لیکن منگولوں نے رومیوں اور یعقوبی مسیحیوں کا قتل عام کیا۔ 1264 م میں نئے بطریرک اغناطيوس الثالث  نے اسے مشرقی جہات کا مفريان مقرر کردیا۔ وہ ہلاکو خان سے ملا اور اس کی طرف سے عیسائی گر جاؤ  ں کے انتظام میں اہم ذمہ داریاں ادا کیں ۔ اس نے گر جاؤ ں اور کلیساؤں کے انتظامات میں مختلف مقامات کا سفر کیا اور اس کے یہ اسفار اس کے علم میں اضافہ کا باعث بنے۔

ابن العبری نے 60 سال کی عمر میں 1286  م میں آذربائیجان کے شہر مراغه میں وفات پائی۔ اس کی رسومات میں کثیر تعداد میں  ارمن اور روم کے نسطوریوں نے شرکت کی۔ ابن العبری یعقوبی فرقے سے تعلق رکھتا تھا،  جو حضرت عیسی علیہ السلام میں طبیعت واحدہ کے عقیدہ کے قائل ہیں۔ وہ عیسائیوں میں فلسفہ اور منطق کا بڑا عالم تھا اور ارسطو کے سارے مسائل پر دسترس رکھتا تھا۔ ابن العبری نے عربی اور سریانی میں 30 سے زائد کتابیں لکھیں ،جن کا ذکر يوسف السمعانی  نے  کیا اور اس کی 14 کتابوں کے نام گنوائے ہیں[6]۔ اس نے علم الکلام، کتاب مقدس کی شرح ،کنیسہ اور سیاست کی تاریخ ،فلسفہ، علم هيئت، طب ،نحواور شعر پر یادگار کتابیں چھوڑی ہیں ۔ يوسف  السمعانی نے اسے یعقوبی مصنفین کا سردار قرار دیا ہے۔ جب اس کی تصنیفات پر نظر ڈالی جا ئےکو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ تمام سریانی اہل علم  سےبڑا عالم تھا۔ وہ عیسائیوں میں عربی علوم کے پہلے  عالموںمیں بھی شمار ہوتا ہے۔

کتاب کی غرض و غایت

مختصر الدول کے مقدمہ میں ابن العبری نے اس مختصر تاریخ کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے  كه اس کا مقصد حکام اور حکماء کے امور خیر و شر سے، ترغیب و ترہیب کے لیے، سریانی اور عربی تاریخ کی کتا بوں سے ایک نچوڑ پیش کرنا ہے،  جو ابتدا تخلیق سے لے کر اپنے زمانے تک  کے حالات پر مشتمل ہے ۔

اہم نکات

 ابن العبری نے اپنی کتاب کے باب سیرت میں  رسول اللہ ﷺ کے ذکر میں درج ذیل  اہم امور کو اجاگر کیا ہے۔

  1. حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی رسول اللہ ﷺ سے رفاقت بائیس سال ذکر کی ہے[7]۔
  2. رسول اللہ ﷺ کے والد گرامی کی وفات کے وقت آپﷺ کی عمر دو سال بیان کی ہے[8]۔
  3. رسول اللہ ﷺ کی ولادت کا سال 892 سکندری قرارديا ہے،عالمی تقویم کا حوالہ دیا ہے اور عربوں یا قریش کی تقویم ذکر نہیں کی[9]۔
  4. حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبول اسلام کو تلوار کے خوف سے قرار دیا ہے [10]۔ 
  5. رسول اللہ ﷺ کا وصال 28 صفربروز پیر کے دن قرار دیا ہے [11]۔
  6. رسول اللہ ﷺ کے دفن کے لئے تین تجاویز پیش کرنے کا ذکر کیا ہے مہاجرین کا یہ مطالبہ کہ آپ کو مکہ لے جایا جائے ۔ ایک گروہ کا خیال تھا کہ آپ کو بیت المقدس میں دفن کیا جائے، کیونکہ وہ مدفن انبیاء ہے ، جبکہ  اہل مدینہ کا اصرار تھا کہ آپﷺ کو مدینہ منورہ  میں دفن  کیا جائے[12]۔
  7. حضرت فاطمہ ؅کی وفات رسول اللہ ﷺ سے تین ماہ بعد ہوئی[13]۔
  8. اسلام میں متعدد اختلافات کا ذکرکرتے ہوئے لکھا کہ اصولی اختلافات علم کلام کا موضوع اور فروعی اختلافات فقہ کا موضوع ہیں۔مسلمانوں کا اصولی اختلاف چار چیزوں میں واقع ہوا ؛صفات و توحید، قضا و قدر، وعدہ و وعید  اورنبوت و امامت۔ اس کے بعد چھ اصولی فرقوں کا ذکر کیا ہے اور ان کے اختلافات  پرتہتر فرقوں کے وجود کا دعوی کیا ہے۔  فروعی اختلاف چار بڑے فقہی مذاہب کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد اسلام کے ارکان اور شروط جن میں طہارت، نماز، روزہ، حج، زکوۃ ،جمعہ،ختنہ،مردار اور خون کی حرمت کا ذکر کیا ہے [14]۔

خلاصه كلام

ابن العبري كي تاريخ پر كتاب تاريخ مختصرالدول ، سریانی میں لکھی ہوئی تاریخ عالم ہے، جو کہ ابتدائےتخلیق  سے لیکر ابن العبری کے زمانے تک کی مفصل تاریخ ہے۔  ابن العبری نے اپنی اس مفصل سریانی تاریخ سے تلخیص کر کے اپنی موت سے کچھ عرصہ قبل عربی میں تاریخ مختصر  الدول لکھی ، جسے یکے بعد دیگرے قائم ہونے والی دس سلطنتوں کی تاریخ کے طور پر  دس  أبواب میں تقسیم کیا ہے ۔ اس کتاب تاریخ کا نواں باب  “الدولة التاسعة: الدولة المنتقلة من ملوك اليونانيين المتنصرين الى ملوك العرب المسلمين “ مسلمانوں کی تاریخ پر مشتمل ہے۔ اس باب كي ابتدا میں نبی پاک ﷺ کے مختصر حالات بیان کئے گئےہیں۔ابن العبري  كي مختصر الدول ميں اگرچہ سیرت کا بیان بہت مختصر ہے، تاہم اس میں کچھ ایسی باتیں موجود ہیں، جن کی بازگشت ہمیں دور جدید کے مستشرقین کی تحریروں میں ملتی ہے۔ مثلا ابن العبری نے نبی اکرم ﷺ کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے واقعہ کو مکہ سے فرار قرار دیا ہے [15]۔ یہی بات دور جدید کے مستشرقین نے Flight to Medina کے لفظ کے ساتھ ترجمہ کی ہے[16] ۔  اس كے ساتھ مؤلف نے كچھ نئی باتوں کا ذکر بھی کیا ہے  اور اسلام کو بطور دین متعارف کروانے کے لیے اس کے بنیادی اصولوں کا خلاصہ بھی بیان کیا ہے۔  اس کے سریانی نسخے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں سیرت طیبہ پر  اعتراضات   کیے گئے ہیں، لیکن اس کے موجودہ عربی نسخہ سے وہ باتیں مصنف نے خود ہی حذف کر دیں۔ ابی عبيدة مشهور بن حسن آلِ سلمان  نے اسے "كتب حذر منه العلماء ” میں شامل کیا ہے([17])۔  اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے  حبیب کریم علیہ الصلاۃ و السلام کی شان اقدس میں کسی بھی ناروا اور فروتر بات  کے سننے ، پڑھنے اور اس کی اشاعت سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔

یہاں یہ کتاب محققین کے علم اور  اطلاع کے لیے شائع کی جارہی ہے، تاکہ وہ شان حبیب اکرم ﷺ کے ضمن میں مسیحی مصنفین کی کتب سے واقف ہو سکیں اور جدید استشراق کے متعصب  فکری  اور علمی مآخذ و مصادر سے واقف ہو سکیں۔

حوالہ جات

[1] ۔ السمعاني، يوسف سمعان (1768 م) ، المكتبة الشرقية (13جلدًا طبع منها اربعة مجلدات)، روما، 1719۔

[2] ۔ ابن العبري، غريغوريوس (واسمه في الولادة يوحنا) ابن أهرون (أو هارون) بن توما الملطي، أبو الفرج ( 685هـ) ، تاريخ مختصر الدول(محقق: أنطون صالحاني اليسوعي)،دار الشرق، بيروت، ط: الثالثة، 1992 م۔ [3] . The first portion deals with political and civil history and is known as the Chronicon Syriacum. The standard edition of the Chronicon Syriacum is that of Bedjan, Gregorii Barhebraei Chronicon Syriacum (Paris, 1890). [4]۔ E. A. Wallis Budge ,The Chronicle of Gregory Abû’l Faraj( Bar Hebraeus: trans from Syriac. 2 vols), London: Oxford University Press. (Reprinted Amsterdam: Apa-Philo Press, 1976) [5] ۔ صاكبان جاسم ، التاريخ الاسلامي من خلال المصادر السريانية العراقية، عالم الفكر ، ع 3 ،  ج 15، 1984، ص 697 [6] ۔  السمعاني ، يوسف سمعان ، المكتبة الشرقية، ج2 ص 268 تا 321۔ [7] ۔ ابن العبري، تاريخ مختصر الدول، ص 94 [8] ۔ نفس مصدر،ص 94 [9] ۔ نفس مصدر،ص 94 [10] ۔ نفس مصدر،ص 95 [11] ۔ نفس مصدر،ص 95
[12] ۔ نفس مصدر،ص 95
[13] ۔ نفس مصدر،ص 97
[14] ۔ ابن العبري، تاريخ مختصر الدول ، ص 98
[15] ۔ مکتبہ شاملہ میں دار الشرق، بيروت سے  1992 م میں شائع شدہ نسخہ میں فهاجر عنهم الى المدينة وهي يثرب کے الفاظ  جب کہ اس کے بعد شائع ہونے والے دار الرائد اللبنانیہ کے نسخہ میں "هرب عنهم الى المدينة وهي يثرب ” کے الفاظ ملتے ہیں۔ محقق اس کے مخطوطوں تک رسائی نہیں پا سکا، تاکہ اصل متن کودیکھا جاسکتا۔
[16]. Nabia Abbot, Aishah: the beloved of Muhammad (SAW, the University of Chicago press, 1942,), p.10
[17] ۔  ابی عبيدة مشهور بن حسن آلِ سلمان  "كتب حذر منه العلماء، ، دار الصميعي للنشر و التوزيع، عمان ۔ الاردن، ج 2 ص 13 و 23

Leave a Comment

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے